ہرمز میں بے چینی سے خلیجی تیل برآمد کے متبادل راستوں کی حدود عیاں | دی نیشنل
ایران سے تصادم کے خطرات کی وجہ سے تیل بردار جہاز ہرمز کے آبنائے سے پرہیز کر رہے ہیں، جس سے ٹریفک تقریباً رک سی گئی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی پائپ لائنیں اس سے بچ کر گزر سکتی ہیں مگر ان کی گنجائش محدود ہے، جس سے عالمی منڈیاں غیر محفوظ ہو گئی ہیں۔ یہ آبنائے عام طور پر 20 ملین بیرل یومیہ سنبھالتی ہے، جس کا نصف سعودی عرب/متحدہ عرب امارات سے آتا ہے۔ اگرچہ اسے باضابطہ طور پر بند نہیں کیا گیا ہے، مگر انشورنس کمپنیاں کوریج واپس لے رہی ہیں اور شپنگ کے اخراجات آسمان چھو رہے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ فراہمی اور عالمی سطح پر ذخائر کی بلندی قیمتوں میں تیزی کو محدود کر سکتی ہے، مگر متبادل راستے قلیل مدتی میں اس آبنائے کا متبادل نہیں بن سکتے۔
https://www.thenationalnews.co