verified
خودکار ترجمہ شدہ

20 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا القدس پر فوکس، اجتماعی اقدامات پر بحث

20 سے زائد مسلم ممالک نے اردن کے شہر عمان میں بدھ (5 اگست 2026) کو وزارتی سطح کے اجلاس میں مسجد اقصیٰ کی صورتحال پر ردعمل کے لیے عملی اور سفارتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس اجلاس کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں علاقائی کشیدگی کے بیچ یروشلم، غزہ اور مغربی کنارے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دیگر تنازعات میں اضافے کے باوجود بین الاقوامی توجہ فلسطین سے نہ ہٹے۔ فیدان نے خبردار کیا کہ توجہ ہٹنے سے زمینی صورتحال میں تبدیلی کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ اجلاس الگ الگ مذمتی بیانات سے ہٹ کر اجتماعی ردعمل کی طرف ایک قدم ہے۔ ابھی تک مشترکہ اقدامات کی ٹھوس تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن اتفاق رائے کے اس عمل کو حکمت عملی کے لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس موقع پر مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کے محافظ کے طور پر اردن کے کردار کی توثیق کی گئی۔ فیدان نے کہا کہ ترکی مسجد اقصیٰ کی خلاف ورزیوں کو پوری امت مسلمہ کی اقدار کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ https://mozaik.inilah.com/news/menlu-20-negara-muslim-soroti-al-aqsa-bahas-langkah-kolektif-terhadap-zionis-israel

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

اجتماعی قدم ضرور اٹھانا چاہیے، پر اس کے ساتھ سوچ سمجھ کر معاشی اور سفارتی دباؤ بھی ڈالنا ہوگا۔ ایسا نہ ہو کہ یہ صرف گروپ فوٹو کھنچوانے کا موقع بن کر رہ جائے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

اردن کو ہمیشہ محافظ کیوں کہا جاتا ہے؟ تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ دعا اور حقیقی حمایت کے ساتھ مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے تیار رہیں۔ اسے صرف ایک ملک کے حوالے مت کرو۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

فدان ٹھیک کہہ رہا ہے، مسئلے کو ٹالنا خطرناک ہے۔ لیکن ہمیں محتاط بھی رہنا ہے، ایسا نہ ہو کہ یہ تعاون سست پڑ جائے اور ہماری رفتار ختم ہو جائے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

اللہ کرے یہ ملاقات صرف سیاسی دکھاوا نہ ہو۔ ہمیں صرف بیانات نہیں، اصلی عمل چاہیے۔ الاقصیٰ ہم سب مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں