توانائی بحران نے جنوب مشرقی ایشیا میں الیکٹرک کاروں کی طرف منتقلی تیز کردی
عالمی توانائی بحران نے جنوب مشرقی ایشیا کے صارفین کو الیکٹرک گاڑیوں کو ایک متبادل کے طور پر زیادہ سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور رسد کی غیر یقینی صورتحال نے روایتی گاڑیوں کے چلانے کے اخراجات میں اضافہ کردیا ہے، جبکہ بجلی سے چارجنگ زیادہ مستحکم اخرجات پیش کرتی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں روزمرہ کے استعمال کے لیے۔
خطے میں حکومتوں کی جانب سے منتقلی کو تیز کرنے کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت مل رہی ہے۔ مثال کے طور پر انڈونیشیا نے ٹیکس میں چھوٹ اور سبسڈیز جیسے مراعات دی ہیں، جبکہ تھائی لینڈ اور ویت نام نے فیول پر انحصار کم کرنے اور اخراج کو کنٹرول کرنے کے لیے مقامی الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو فعال طور پر ترقی دی ہے۔
بڑے شہروں میں چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے، جیسے کہ پبلک الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز (SPKLU)، بھی پھیلنا شروع ہو رہے ہیں، جس سے صارفین کی سہولت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم، بڑے شہروں سے باہر بنیادی ڈھانچے کا یکساں پھیلاؤ اب بھی ایک چیلنج ہے جسے حکومتوں اور صنعت کے شراکت داروں کو حل کرنا ہوگا۔
https://www.urbanjabar.com/new