عمرہ کی نیت کی مکمل دعا عربی، لاطینی، ترجمہ اور سنت کے مطابق طریقہ کار کے ساتھ
حرمین شریفین میں عمرہ ادا کرنا ہر مسلمان کا خواب ہوتا ہے۔ اس عبادت کو اکثر چھوٹا حج کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی رسومات حج سے ملتی جلتی ہیں، جیسے احرام، طواف اور سعی، لیکن اس میں عرفات میں وقوف اور مزدلفہ میں رات گزارنا شامل نہیں۔ عبادت کو صحیح اور آسان بنانے کے لیے عمرہ کی نیت کے الفاظ کو صحیح طور پر سمجھنا اور یاد کرنا ضروری ہے۔
نیت اسلامی شریعت میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے" (بخاری و مسلم)۔ فقیہ وہبہ الزحیلی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نیت دل میں ہونی چاہیے، نہ کہ صرف زبان پر۔ نیت کے کئی الفاظ دستیاب ہیں: مکمل صورت "نویت العمرۃ و احرمت بھا للہ تعالی، لبیک اللھم عمرۃ"، مختصر صورت "لبیک اللھم عمرۃ"، اور حج و عمرہ ایک ساتھ (قران) کی نیت۔
عمرہ کا زمانی میقات سارا سال لچک دار ہے، لیکن یوم عرفہ، عید الاضحی اور ایام تشریق میں مکروہ ہے۔ مدینہ سے مکانی میقات ذوالحلیفہ (بئر علی) ہے، جبکہ انڈونیشیا سے آتے وقت جہاز قرن المنازل یا یلملم کے اوپر سے گزرے تو وہاں نیت کی جا سکتی ہے۔ طریقہ کار میں شامل ہیں: حدث سے پاک ہونا، قبلہ رخ ہونا، سیدھا کھڑا ہونا، ہاتھ اٹھانا، خشوع سے پڑھنا، اور اس کے معنی سمجھنا۔ احرام کے بعد تلبیہ پڑھنا اور حفاظت کی دعا کرنا سنت ہے۔
https://mozaik.inilah.com/haji