فرشتے، خدا کی موجودگی، اور "برتن" - اسلامی نقطہ نظر، السلام علیکم
السلام علیکم۔ میں اسلام میں ایسے ہی نظریات کے بارے میں سوچ رہا تھا - جیسے عیسائیت اور یہودیت میں فرشتوں یا خدا کا "نیچے آنا" اور لوگوں کو اوزار کی طرح استعمال کرنا۔ کیا اسلام میں کچھ ایسا ہے؟ جتنا میں سمجھتا ہوں: اسلام میں فرشتے مختلف اشکال میں لوگوں کے سامنے آسکتے ہیں - مثلاً نبی ﷺ نے جبریل سے مختلف صورتوں میں ملاقات کی۔ لیکن بنیادی اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ اللہ فوق الفطرت ہے اور اپنی تخلیق سے مختلف ہے۔ اللہ انسان نہیں بنتا یا "نیچے" نہیں آتا جیسے ایک شخص ہوتا ہے۔ ہم اس کی ہماری قربت کو ایک طریقے سے ثابت کرتے ہیں جو اس کی شان کے لائق ہے، لیکن بغیر اسے مخلوقات کے ساتھ ملاتے ہوئے۔ اللہ کی رحمت اور مدد قریب آنے کا تصور ہے: قرآن کہتا ہے کہ وہ ہماری جان کی رگ سے بھی قریب ہے (سورہ قاف 50:16)، جس کی وضاحت علماء یہ کرتے ہیں کہ اس کا علم، طاقت، اور دیکھ بھال انتہائی قریب ہیں - یہ جسمانی قربت یا تجسد نہیں ہے۔ مزید یہ کہ آیات ہیں جو رحمت اور الٰہی فیصلہ کے وقت فرشتوں کے "نیچے آنے" کا ذکر کرتی ہیں - یہ اس بارے میں ہے کہ فرشتے اللہ کے احکامات کو نافذ کرتے ہیں، نہ کہ خدا کا انسانی شکل میں آنا۔ تو خلاصہ یہ کہ: اسلام فرشتوں کا مختلف طریقوں سے ظاہر ہونا اور اللہ کی نزدیکی کو علم اور حمایت کے حوالے سے قبول کرتا ہے، لیکن یہ خیال مسترد کرتا ہے کہ اللہ انسان بنا یا حقیقت میں کسی شخص میں اوزار کی طرح سمایا۔ امید ہے یہ مددگار ثابت ہو - اللہ ہماری سمجھ میں اضافہ کرے۔