عید کی نماز کے بعد ایک مسکراہٹ جو میرے دل کو چھو گئی
آج عید کی نماز کے لیے مسجد گئی، الحمدللہ۔ سارا ماحول حیرت انگیز تھا، ہر شخص خوش تھا اور اتنی گرمجوشی اور گلے ملنے کے ساتھ ایک دوسرے کو سلام کر رہا تھا۔ پھر میں نے ایک بھائی کو روایتی لباس میں دیکھا۔ سبحان اللہ، اس کی مسکراہٹ... کچھ اور ہی تھی۔ یہ کوئی عام مسکراہٹ نہیں تھی، یہ تو سیدھے میرے دل پر لگی، سمجھ رہی ہو؟ بس اسے دیکھ کر مجھے ایک نرم، جذباتی احساس ہوا جو میں نے پہلے کبھی کسی کو صرف دیکھ کر محسوس نہیں کیا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک صاف نور تھا، جیسے روشنی، اور واقعی اس سے نیکی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے ہمیشہ سنا تھا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے حقیقی عبادت انسان پر ظاہر ہوتی ہے، اور اب میں پوری طرح سمجھ گئی ہوں۔ اس لمحے نے ایمان کو واقعی بہت مضبوط کر دیا۔ اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کس طرح چھوٹی چھوٹی چیزیں، جیسے صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک مخلصانہ مسکراہٹ، لوگوں پر ایسے طریقوں سے اثر ڈال سکتی ہیں جو ہمیں معلوم بھی نہ ہوں۔ ایسا ایک لمحہ واقعی کسی کے ایمان کو بڑھا سکتا ہے اور طویل عرصے تک اس کے ساتھ رہ سکتا ہے۔