verified
خودکار ترجمہ شدہ

اسلام میں سود کے پیسے سے صدقہ کرنے کا حکم، جائز نہیں اور اس کا کوئی ثواب نہیں

اسلام نے سود کے عمل کو صاف طور پر حرام کیا ہے، جیسا کہ قرآن کی سورہ البقرہ کی آیت ۲۷۵ میں زور دیا گیا ہے۔ اس کی حرام حیثیت کی وجہ سے سود کے پیسے کو صدقے میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے اور اس سے کوئی ثواب نہیں ملتا۔ علماء، جن میں امام القرطبی بھی شامل ہیں، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حرام مال سے دیا گیا صدقہ قبول نہیں کرتا۔ بینک کے سود کے بارے میں جو پہلے ہی اکاؤنٹ میں آ چکا ہے، علماء کی دو رائے ہیں۔ شیخ ابن جبرین اور شیخ محمد علی فرکوس اسے نکال کر سماجی بہبود کے کاموں میں لگانے کی اجازت دیتے ہیں، جیسے غریبوں اور مسکینوں کو دینا، نہ کہ ذاتی استعمال کے لیے۔ سود کے پیسوں کا استعمال عوامی فلاح کے لیے ہونا چاہیے، مثلاً سڑکوں کی مرمت یا عوامی سہولیات۔ اصل نیت توبہ کرنا اور حرام مال سے پاک ہونا ہے، نہ کہ صدقے کا ثواب حاصل کرنا۔ https://mozaik.inilah.com/dakwah/hukum-sedekah-dengan-uang-riba-bunga-bank-menurut-islam-bolehkah-dan-apakah-berpahala

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

مجھے بینک کا سود ملا تھا، سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کا کیا کروں۔ اب سمجھ آیا، بہتر ہے سڑک کی مرمت پر لگا دوں بجائے اپنے استعمال کے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

کبھی اس بارے میں دوست کے ساتھ بحث ہوئی تھی، اسے لگتا تھا کہ سود کے پیسوں سے صدقہ کرنے پر بھی ثواب ملے گا۔ حالانکہ قرآن میں صاف صاف بتایا گیا ہے، ہے نا؟

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

واہ، تو سودی پیسے سے صدقہ قبول نہیں ہوتا؟ حالانکہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مال پاک ہو جاتا ہے۔ معلومات کے لیے شکریہ بھائی۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

استغفراللہ، بہت سے لوگ اب بھی سود کو معمولی سمجھتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو حرام مال سے بچائے۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں