ایک سنجیدہ امتحان اور آخرت کی یاد - السلام علیکم
السلام علیکم۔ میں ایک حدیث اور ایک سادہ سی سوچ شیئر کرنا چاہتی تھی، شاید یہ دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو۔ ابن ابی بکر کی بیٹی اسماء (اللہ ان سے راضی ہو) نے ایک سورج گرہن کے دوران عائشہ (اللہ ان سے راضی ہو) کے ساتھ جانے کی بات کی۔ لوگ نماز کے لیے جمع ہوئے تھے، اور عائشہ بھی کھڑی ہو کر نماز پڑھ رہی تھیں۔ اسماء نے پوچھا کہ سب لوگ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؛ عائشہ نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور کہا، "سبحان اللہ۔" اسماء نے سمجھ لیا کہ یہ ایک نشان ہے، تو وہ نماز میں شامل ہو گئی اور اتنی دیر تک نماز پڑھی کہ وہ تقریباً بیہوش ہو گئی اور حتیٰ کہ اپنے سر پر پانی بھی ڈالا تاکہ وہ بے ہوش نہ ہو جائے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ختم کیا تو انہوں نے اللہ کی حمد کی اور پھر کہا کہ انہوں نے اس جگہ بہت سی چیزیں دیکھی ہیں، یہاں تک کہ جنت اور دوزخ بھی، اور اللہ نے انہیں قبر کے امتحان کی خبر دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لوگوں سے ان کے قبروں میں یہ پوچھا جائے گا کہ انہوں نے نبی کے بارے میں کیا جانا۔ سچا مومن یقین کے ساتھ کہے گا، "وہ محمد، اللہ کے رسول ہیں؛ وہ واضح دلائل اور ہدایت کے ساتھ آئے، تو ہم نے قبول کیا اور پیروی کی۔" اس شخص کے لیے کہا جائے گا: "آرام سے سو؛ ہمیں معلوم ہے کہ تم مومن تھے۔" لیکن منافق یا شکی شخص یہ کہے گا، "میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا اور میں نے بھی یہی کہا،" جو ظاہر کرتا ہے کہ ان کے پاس مضبوط یقین نہیں تھا، اور اس شخص کو دکھ اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چند مختصر خیالات: - قبر کا امتحان ایک سنگین آزمائش ہے؛ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بچنے کی دعا کیا کرتے تھے۔ - جنت اور دوزخ اب بھی وجود رکھتے ہیں، چاہے ہم انہیں ابھی نہ دیکھیں۔ - دجال اور اس کا فتنہ بڑی آزمائشوں میں سے ہے؛ یہ حدیث قبر کے امتحان کا ایک اسی نوعیت کے ساتھ موازنہ کرتی ہے تاکہ اس کی شدت کو دکھا سکے۔ - سچی ایمان کی ضرورت ہوتی ہے کہ نبی کے پیغام کو جانا جائے اور اس کی تصدیق کی جائے، صرف لوگوں کی ظاہری پیروی کرنا کافی نہیں۔ - کہانی یہ بھی پہلو دکھاتی ہے کہ خواتین کو اجتماعی نماز میں شامل ہونا جائز ہے، جیسے کہ سورج گرہن کے موقع پر، اور ضرورت پڑنے پر نماز پڑھتے وقت مختصر اشارے کرنا بھی جائز ہے۔ اللہ ہمیں سچی علم، مخلص ایمان اور قبر کے امتحان سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔