اچھے اعمال کو جاری رکھنے کے لیے ایک نرم سا جھٹکا
سنت سے ایک خوبصورت یاددہانی ملتی ہے، الحمدللہ۔ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کچھ اس طرح فرمایا: 'اے عبداللہ، اس شخص کی طرح نہ بنو جو راتوں کو نماز پڑھتا تھا پھر بس چھوڑ دی'۔ آپ ﷺ نے نام نہیں لیا، جو بہت غوروفکر کا تقاضا کرتا ہے، سمجھ رہے ہو نا؟ یہ بات واقعی آپ کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ آپ جن اچھے کاموں کا آغاز کرتے ہیں، چھوٹے ہوں یا بڑے، ان پر قائم رہیں۔ اسلام تو توازن کی بات کرتا ہے، سبحان اللہ۔ اگر ہم بہت سختی کر لیں اور ایک ساتھ سب کچھ کرنے کی کوشش کریں، تو بس ہم گھبرا جاتے ہیں اور پھر آخرکار سب چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ اللہ نے اپنی بے انتہا رحمت سے ہماری عبادت کو مقررہ اوقات اور طریقوں کے ساتھ قابلِ عمل بنا دیا ہے۔ جب ہم اعتدال اور مستقل مزاجی کے ساتھ چلتے ہیں-خواہ وہ نماز ہو، قرآن پڑھنا ہو، یا اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک-تو ہم اسے طویل عرصے تک جاری رکھ سکتے ہیں۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ اعمال آتے ہیں جو مسلسل ہوں، چاہے وہ چھوٹے ہی کیوں نہ لگیں۔ تو آئیے، چھوٹے چھوٹے قدموں میں ان اچھی عادتوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔