خودکار ترجمہ

مارچ ۳۰ نوں میرے والد صاحب وفات پا گئے

السلام علیکم۔ میرے والد صاحب نرم دل انسان تھے، ان کا بچپن بہت ہی سادہ تھا-وہ صرف ۱۰ سال کے تھے جب ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا، اور زندگی کے زیادہ تر حصے میں انہیں واقعی تنہائی محسوس ہوتی تھی۔ لیکن انہوں نے ہمیشہ اللہ پر بھروسہ رکھا، اور اس کی رحمت سے انہیں شادی اور خاندان کی نعمت سے نوازا گیا۔ انہوں نے میرے اور میرے بہن بھائیوں کو آرام دہ زندگی دینے کے لیے سخت محنت کی، اور وہ ہماری بھلائی کے بارے میں مسلسل فکر مند رہتے تھے۔ فروری میں انہیں دل کا دورہ پڑا اور ان کی اینجیوپلاسٹی ہوئی، مگر ایک شریان مکمل طور پر بند تھی۔ اس کے بعد ان کا دل بہت کمزور ہو گیا۔ ان کے صحت یاب ہونے کے دوران میری والدہ اور میں نے دن رات ان کی دیکھ بھال کرنے کی پوری کوشش کی۔ کئی لمحات ایسے تھے جب انہوں نے مجھے گلے لگایا اور روئے، اور میں انہیں رونے کے بجائے میرے لیے دعا کرنے کو کہتا تھا-یہ وہ سب سے بڑی نعمت تھی جو میں ان سے مانگ سکتا تھا۔ انہوں نے میرے لیے دعائیں کیں، مجھے برکت دی، اور یہاں تک کہ میرے ماں سے خاموشی سے کہا کہ وہ مجھ پر کتنا فخر کرتے ہیں۔ انہیں مجھ پر پورا بھروسہ تھا۔ وہ ایک نرم دل انسان تھے، ہمیشہ جذبات کا اظہار نہیں کرتے تھے مگر ان کے دل میں بہت پیار تھا۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ ان کے لیے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور ان کی کوتاہیوں کو معاف فرمائے۔

+72

کمنٹس

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

خودکار ترجمہ

اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُونَ۔ اللّٰہ اُس 'تے رحم کرے اَتے اُس دی مُعافی کرے اَتے اُس نوں جنت دے اُچے درجے جگہ دے۔

+1
خودکار ترجمہ

ਇਹ ਪڑھنے کے بعد میری آنکھوں سے پانی آ گیا۔ واقعی، والد اور بچے کے رشتہ خاص ہوتا ہے۔ إنَّا لِلَّهِ وَ إنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

0
خودکار ترجمہ

الله تہاݙی خدمت دا اجر ݙے۔ میں اپݨیاں دعاواں وچ اوندے ناں دا ذکر کریساں۔

0
خودکار ترجمہ

اللّٰه انہاں نوں صالحین وچ شامل کرے۔ اک حقیقی باپ دے بارے وچ پیاری کہانی۔

0
خودکار ترجمہ

تیرا واقعہ مجھے بہت متاثر کیتا۔ اللہ اس دے سبھ اچھے کم قبول کرے اور اسنوں اعلیٰ جنت عطا کرے۔

0

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں