مجھے میرے والد کی وفات ہوئے دو سال ہو گئے ہیں، اور میرا دل اب بھی بوجھل محسوس ہوتا ہے۔
السلام علیکم دوستوں۔ مجھے میرے والد گزرے ہوئے دو سال ہو چکے ہیں، اور تب سے ایسا لگتا ہے جیسے میں اپنے سینے میں کوئی بھاری بوجھ لیے پھر رہا ہوں۔ مجھے بہت سے ڈر لگتے ہیں، رات کو نیند نہیں آتی، اچانک پرانی یادوں کا طوفان اٹھتا ہے، اور میں ہر وقت اپنی ماں کے بھی چلے جانے کے خوف میں مبتلا رہتا ہوں۔ زندگی میں مکمل طور پر کھو سا گیا ہوں - کوئی سمت نہیں، کوئی واضح راستہ نہیں، بس اٹکا ہوا، گم گشتہ اور دماغی طور پر بالکل تھکا ہوا۔ کبھی کبھی لگتا ہے جیسے میں ناکام ہوں، اور سچ کہوں تو مجھے اب پتا بھی نہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ میں اب شادی شدہ ہوں، اور الحمد للہ، میری بیوی اور مجھے جلد ہی بچے کی امید ہے۔ یہ بات مجھے امید اور خوشی سے بھر دینی چاہیے، لیکن اس کے بجائے میں صرف گھبراہٹ اور ڈر محسوس کرتا ہوں۔ میں جلدی غصے میں آ جاتا ہوں، اکثر قابو کھو دیتا ہوں، اور پھر بعد میں شدید احساسِ جرم ستاتا ہے۔ کبھی کبھار یہ بھی برا خیال آتا ہے کہ میں ہی چلا جانا چاہیے تھا، میرے والد نہیں، اور یہ سوچ مجھے کھائے جاتی ہے۔ مجھے ہمیشہ بہت سی چیزوں کا ڈر لگا رہتا ہے۔ میں یہ باتیں کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتا، اپنی بیوی کے ساتھ بھی نہیں۔ سب کچھ اپنے اندر ہی دبا کر رکھتا ہوں، اور سچ کہوں تو مجھے یہ محسوس کرنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔ بس یہ لکھنا بھی مشکل ہے۔ محسوس ہوتا ہے جیسے میں پھنسا ہوا ہوں، اور اپنے خیالات سے لڑتے لڑتے بالکل تھک گیا ہوں۔ کیا کسی اور نے بھی غم کو اس ڈر، غصے، جرم، اور اپنی زندگی سے جڑے رہنے کی اذیت میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے؟ آپ نے اس سے نکلنے کا راستہ کیسے پایا؟ جب آپ خود کو اتنا ٹوٹا ہوا اور گم گشتہ محسوس کریں تو اپنے آپ کو دوبارہ کیسے بنانا شروع کریں؟ مجھے سچی رہنمائی کی ضرورت ہے، شاید اسلامی نقطۂ نظر سے بھی۔