تم نے کہا "میں یقین رکھتی ہوں" - اب زندگی تم سے یہ دکھانے کو کہے گی۔
السلام علیکم - "میں ایمان رکھتی ہوں" کہنا کافی نہیں ہے؛ زندگی تم سے اس کا ثبوت مانگے گی۔ آزمائشیں یہ نہیں بتاتیں کہ اللہ تم سے منہ موڑ چکا ہے؛ بلکہ یہ اس کی توجہ کا ثبوت ہیں۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ مشکلات نہیں ہیں - یہ ہمیں ان کے لیے تیار کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ کیوں آزمائشیں ہمارے راستے میں آتی ہیں۔ "کیا لوگوں کا خیال ہے کہ جب وہ کہیں گے، 'ہم ایمان لائے' تو انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟ ہم نے ان لوگوں کو بھی آزمایا جو ان سے پہلے تھے۔ اور اس طرح اللہ سچوں اور جھوٹوں کے درمیان واضح امتیاز کرے گا۔" (29:2–3) ایمان صرف وہ نہیں جو ہم زبان سے کہتے ہیں؛ یہ وہ چیز ہے جو زندگی دیکھنا چاہے گی۔ مشکل وقت دکھاتا ہے کہ ہم واقعی میں کہاں کھڑے ہیں - آیا ہمارا ایمان آسانی پر ہے یا سچی عقیدت پر۔ یہاں تک کہ سب سے مضبوط مومن بھی کبھی کبھی ہل گئے: "کیا تمہارا خیال ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے بغیر اس کے کہ تمہیں بھی ان لوگوں کی طرح آزمایا جائے؟ انہیں مصیبتوں اور مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اس قدر جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور ان کے ساتھ کے مومنوں نے پکارا، 'اللہ کی مدد کب آئے گی؟' بے شک، اللہ کی مدد ہمیشہ قریب ہے۔" (2:214) یہ آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ مشکل کا مطلب ناکامی نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب ہے کہ تم ایک ایسے راستے پر جا رہے ہو جس پر دوسرے بھی گزر چکے ہیں۔ جنت آسانیوں سے حاصل نہیں کی جاتی، بلکہ اعتماد اور صبر کے ذریعے۔ آزمائشیں حوصلہ ہارنے کی وجہ نہیں ہیں؛ یہ اللہ کے ساتھ مزید مضبوطی سے جڑنے کے مواقع ہیں۔ جو بھی تم گزر رہی ہو، تم اللہ کی علم، منصوبے، اور دیکھ بھال کے اندر ہو۔ اپنے ایمان کو تھامے رکھو۔ مدد قریب ہے، چاہے تم اسے ابھی نہ دیکھ سکو۔