فجر کی روزے میں کھانا کب بند کر دیں؟ ایک آسان وضاحت
السلام علیکم سب کو! امید ہے آپ سب ٹھیک ہوں گے۔ آج بات کرتے ہیں روزے کے لیے ایک اہم چیز کی، خاص طور پر رمضان یا دیگر روزوں میں۔ بڑا سوال یہ ہے کہ فجر کے روزے میں ہمیں کھانا پینا بالکل کب بند کرنا چاہیے؟ کیا اذان شروع ہوتے ہی، یا پھر ہم اس کے ختم ہونے تک انتظار کر سکتے ہیں؟ تو بات یہ ہے کہ چاروں مشہور مسالک-حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی-کے علماء کے مطابق، روزہ دراصل اصل فجر (سحر صادق) کے وقت شروع ہوتا ہے، یعنی جب فجر کی نماز کا وقت داخل ہوتا ہے۔ آج کل یہ عام طور پر فجر کی اذان کے وقت ہی ہوتا ہے۔ سو جیسے ہی اصل فجر طلوع ہو، آپ کو کھانا پینا فوراً بند کر دینا چاہیے، کوئی تاخیر نہیں۔ اللہ قرآن مجید میں فرماتا ہے (2:187): "اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ تم پر صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے نمایاں ہو جائے۔" اس کا مطلب ہے کہ جب صبح کی سفیدی ظاہر ہو جائے، یہی آخری حد ہے۔ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واضح کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ بلال رات میں اذان دیتے تھے تاکہ لوگوں کو جگائیں، لیکن اصل فجر کا وقت وہ ہے جب ابن ام مکتوم اذان دیتے ہیں۔ سو آپ ابن ام مکتوم کی اذان تک کھا سکتے ہیں، بلال کی اذان تک نہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت دو اذانیں ہوتی تھیں، اور ہمیں اس اذان پر عمل کرنا ہے جو اصل فجر کی نشاندہی کرتی ہے۔ کچھ لوگ ایک دوسری حدیث سے الجھن میں پڑ جاتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ کھاتے ہوئے اذان سنیں تو اپنا کھانا پیٹ سکتے ہیں۔ لیکن علماء وضاحت کرتے ہیں کہ یہ فجر سے پہلے دی جانے والی پہلی اذان (سحری کے لیے) سے متعلق ہے، نہ کہ فجر کی اذان سے۔ لہٰذا، اگر آپ جانتے ہیں کہ اذان اصل فجر کے لیے ہے، تو آپ کو فوراً رک جانا چاہیے، چاہے آپ کا نوالہ منہ میں ہی کیوں نہ ہو۔ اگر ضروری ہو تو اسے تھوک دیں! خلاصہ یہ کہ چاروں مسالک اس پر متفق ہیں: جب اصل فجر شروع ہو جائے، آپ کا روزہ شروع ہو جاتا ہے، اور اس کے بعد آپ کچھ کھا یا پی نہیں سکتے۔ اذان ختم ہونے کا انتظار نہ کریں، اور نہ ہی ایسی جدید رائے پر چلیں جو اس اجماع کے خلاف ہو۔ غلطی سے بچنے کے لیے معتبر علماء کی بتائی ہوئی باتوں پر قائم رہیں۔ صرف ایک دوستانہ یاد دہانی: بے ترتیب آراء چننے کی بجائے مستند تعلیمات پر بھروسہ کرنا بہتر ہے۔ اللہ ہم سب کو صحیح راستہ پر چلنے کی آسانی عطا فرمائے! اگر آپ کے مزید سوالات ہیں، تو نیچے کمنٹس میں پوچھنے میں دریغ نہ کریں۔ آپ سب کا پڑھنے کا شکریہ! جزاک اللہ خیرا۔