جب آپ کا مقامی امام آپ سے حافظ بننے کے لیے کہے… اور آپ اپنے ہی دل سے ڈرے ہوئے ہوں۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سب کو، سبحان اللہ، مجھے ایک بہت حیرت انگیز اور بھاری بات شیئر کرنی ہے۔ میں نیا مسلمان ہوں، اور ہماری مسجد کے ایک امام اور حافظ صاحب نے مجھے بیٹھا کر کہا ہے کہ میں قرآن حفظ کرنے کا باقاعدہ سفر شروع کروں، اور ممکنہ طور پر چار سے چھ سال میں حافظ بننے کا ہدف رکھوں۔ میں سچ کہوں تو ابھی تک حیران ہوں۔ مجھے اس قدر اعتماد کے قابل محسوس نہیں ہوتا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت اور ذمہ داری ہے۔ **لیکن میرا اصل خوف یہ ہے: میں اپنے ہی ارادوں سے ڈرا ہوا ہوں۔** میں کیسے یقینی بنا سکتا ہوں کہ میں یہ صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں، نہ کہ حافظ بننے کے بعد ملنے والے احترام یا لقب کے لیے؟ مجھے ڈر ہے کہ اس طویل سفر میں میرا نفس تعریف یا گھمنڈ سے جڑ نہ جائے۔ قرآن حفظ کرنا بہت خوبصورت عمل ہے، لیکن میں نہیں چاہتا کہ یہ کرتے ہوئے میرے انا کی پرورش چھپے میں ہوتی رہے۔ ان حضرات کے لیے جو حافظ ہیں، یا جنہوں نے کوئی طویل مدتی عبادت اپنائی ہو: • آپ سالوں پر محیط عرصے میں، صرف ہفتوں میں نہیں، اپنی نیت کیسے تازہ رکھتے ہیں؟ • جب لوگ آپ کی تعریف کریں تو آپ اپنے دل کو ریا (دکھاوے) سے کیسے بچاتے ہیں؟ • آپ اس قدر طویل عرصے تک روحانی طور پر پرجوش اور مستقل مزاج کیسے رہتے ہیں بغیر جھلس جانے کے؟ آپ کے اپنے سفر سے کوئی مشورہ یا کہانی میرے لیے بہت قیمتی ہوگی۔ **اللہ تعالیٰ ہمارے ارادوں کو پاک کرے اور ہمیں اس کی کتاب کی خدمت صرف اسی کی رضا کے لیے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔**