جب دل اتنا بھاری ہو جائے کہ چلتا نہ رہے
اسلام علیکم لوگو، یہ تھوڑا لمبا ہو سکتا ہے لیکن میرے پاس کوئی ایسا نہیں جس سے میں واقعی اس بارے میں کھل سکوں، تو براہِ کرم اگر میں ذرا جذباتی ہو جاؤں تو معاف کر دینا۔ مجھے سچ میں اب خود سے نفرت سی ہوتی ہے۔ میرے اندر ذرا بھی سیلف ریسپیکٹ نہیں بچی، اپنی روح کے لیے کوئی مہربانی نہیں، اور آگے بڑھتے رہنے کی کوئی وجہ نہیں سوائے اپنے ابو اور اللہ کے۔ مجھے لگتا ہے میرا باقی گھر والے دل توڑ بیٹھیں گے، لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ سب سے بڑی فکر اپنے ابو کی ہے۔ کچھ سال پہلے، میری ماں اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ تب سے میں زیادہ تر اکیلا ہی ہوں، حالانکہ میں ابو کے ساتھ رہتا ہوں لیکن سارا دن اکیلا گزرتا ہے جب تک وہ رات کو نہیں لوٹتے۔ مجھے تنہائی کی عادت ہو گئی ہے۔ یونیورسٹی میں 3 سال اکیلے رہا اور تب پہلی بار کچھ گہرے دوست بنائے تھے۔ لیکن اب میں خود کو ایک انسان کے طور پر مکمل فیلیر محسوس کرتا ہوں۔ چھوٹی موٹی چیزیں جو میں نے کر ڈالیں ان کی میرے لیے کوئی اہمیت نہیں۔ میں خود کو جگہ کا ضیاع سمجھتا ہوں اور سچ میں کوئی ایسا شخص جو عزت کا حقدار نہیں۔ میں نے دوستوں کی عزت کھو دی ہے کیونکہ میں نے وعدہ کرکے بھی وہی گناہ دوبارہ کیا۔ اس وجہ سے اپنی نظر میں بھی گری ہوئی ہوں۔ کیا مجھے واقعی ساری زندگی اپنے آپ کے ساتھ رہنا ہے؟ میں دوسروں کے لیے جی کیوں رہا ہوں؟ ایک اور دن گزارنے کے لیے اپنے آپ کو مجبور کیوں کروں؟ میرا اللہ کی رحمت سے یقین نہیں اٹھا، مجھے خود سے یقین اٹھ گیا ہے۔ مجھے یہ سب جاری نہیں رکھنا۔ میں اپنے دوستوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا کیونکہ، میرا سب سے قریبی دوست شاید مجھے اپنا سب سے قریبی دوست بھی نہ بولے۔ باقی سب کا بھی یہی حال ہے۔ میں بس ایک 'پلیس ہولڈر' بندہ ہوں۔ میں سوسائٹی سے مکمل تعلق کیوں نہیں توڑ سکتا؟ یہ لوگوں سے جڑے رہنے کا طریقہ ہم پر تھوپا کیوں جاتا ہے؟ یہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ میری کسی کے لیے بھی کوئی ویلئو نہیں ہے۔ مجھے اپنے گناہوں سے نفرت ہے، اور میں نے اللہ سے بے شمار بار معافی مانگی ہے۔ اگر میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی پوری طرح عبادت کروں، جو میں پہاڑوں میں جا کر کرنا پسند کروں گا جہاں کسی کو میری ضرورت نہ ہو اور نہ مجھے کسی کی ضرورت، تو پھر بھی دوسروں سے جڑا کیوں رہنا ہے؟ اگر میں اتنا غلط ہوں تو مجھے بس اکیلا کیوں نہیں چھوڑ دیا جاتا بجائے اس کے کہ میں سنوں کہ میں بڑے کمز اور بہتری کے لیے پیدا ہوا ہوں؟ اس کے لیے بھی تو لوگوں سے معاملہ کرنا پڑے گا میں لوگوں سے تنگ آ گیا ہوں۔ میں یہ جان کر تھک گیا ہوں کہ مجھے ان لوگوں کی خاطر زندہ رہنا ہے جنہیں شاید کوئی فرق نہیں پڑتا اور تھوڑی دیر بعد آگے بڑھ جائیں گے۔ نہیں معلوم کب میری ویلیو لوگوں سے بندھ گئی، لیکن اب لگتا ہے یہ نہیں کھل سکتی اور مجھے اس کے ساتھ ہی جینا ہوگا۔ ختم کرنے کے بارے میں سوچوں تو ایک عجیب سا سکون ملتا ہے کہ یہ میرے ہاتھ میں ہے، لیکن میں رکتا ہوں کیونکہ اللہ کو پسند نہیں ہوگا۔ لیکن کیوں، مجھے اتنا کچھ کیوں سہنا پڑے جس کے بغیر میں رہ سکتا ہوں؟ میں نے اپنے دوستوں سے دوری بنانا شروع کر دی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس وقت کسی کو واقعی میرے مسائل کی فکر ہے اور سچ بولوں تو، فکر کرنی بھی کیوں چاہیے؟ یہ میرے مسائل ہیں، میں نے یہ سب غلطی خود اپنے اوپر لی ہے۔ میں اس کا بدلا خود سے ہی کیوں نہ لے لوں؟ میں بس گُم ہو جاناچاہتا ہوں، تاکہ مجھے اپنے آپ سے ڈیل نہ کرنا پڑے۔ اب میری کوئی ویلیو نہیں رہی۔ مجھے نہیں لگتا کہ کبھی ہوگی بھی۔ میں صرف ایک سست آدمی ہوں جو دوسروں سے چمٹ کر اپنی پریشانیوں سے دھیان بٹاتا ہے۔ میں شاید جلد ہی سب ختم کر دوں، اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھے معاف کر دے۔