ایرانی تجارتی جہاز کے بحر ہرمز پر امریکی قبضے پر تہران کی گولی بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب امریکی بحریہ نے اتوار (18/4/2026) کو بحر ہرمز کے قریب ایرانی پرچم لہرانے والے ایک تجارتی جہاز پر فائر کرکے اس پر قبضہ کر لیا۔ ایرانی فوجی کمانڈ نے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے اسے بحری قزاقی اور نافذ العمل گولی بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکی میرینز نے 'توسکا' نامی جہاز کو محفوظ بنا لیا ہے اور اس کے سامان کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کے میزائل ڈسٹرائر نے جہاز کے انجن روم کو تباہ کر کے اسے غیر فعال کرنے سے پہلے انتباہ دیا تھا۔ امریکی سنٹرل کمانڈ (سنٹکام) کے مطابق، فیصلہ کن کارروائی سے چھ گھنٹے پہلے تک انتباہ دیا گیا تھا۔ اب تک اس واقعے میں جانی نقصان کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
یہ بڑھتی ہوئی کشیدگی امریکہ اور ایران کے درمیان نئی بات چیت کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے، کیونکہ گولی بندی کا موجودہ معاہدہ اگلے بدھ کو ختم ہونے والا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور عالمی توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنانے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر مسعود پیزشکیان اور وزیر خارجہ عباس آراغچی نے پاکستان کو احتجاجی نوٹس بھیجے ہیں، جس میں امریکی کارروائی کو دھمکی آمیز قرار دیا گیا ہے اور مذاکرات میں بد نیتی کا اظہار کیا گیا ہے۔
https://www.gelora.co/2026/04/