آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی نے 21 جہازوں کو واپس مڑنے پر مجبور کر دیا
ریاستہائے متحدہ امریکا (یو ایس) نے اب بھی آبنائے ہرمز میں ایران کے بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی جاری رکھی ہے، جو عالمی تجارتی دھارے پر نمایاں اثر انداز ہو رہی ہے۔ یونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرل کمانڈ (سنٹکام) نے انکشاف کیا ہے کہ 13 اپریل 2026 سے ناکہ بندی نافذ ہونے کے بعد سے، ان کے فوجی دستوں نے 21 جہازوں کو واپس ایران لوٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس آپریشن میں گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائر یو ایس ایس مائیکل مرفی شامل تھی جو عرب سمندر میں گشت کر رہی تھی۔
دوسری طرف، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی گئی ہے، حالانکہ لبنان میں دس روزہ جنگ بندی معاہدے کے حصے کے طور پر کچھ مخصوص لینوں پر پابندیاں عائد ہیں۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ حتمی معاہدے تک قریباً مستقبل میں ناکہ بندی ختم نہیں ہو گی۔
یہ ناکہ بندی براہ راست آبنائے ہرمز پر اثر انداز ہو رہی ہے، جو ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی فراہمی گزرتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ شپنگ اور انشورنس کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ امریکا اور ایران کے باہمی متضاد بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی تجارت میں خلل ڈالنے کا خطرہ اب بھی بہت زیادہ ہے۔
https://www.harianaceh.co.id/2