امریکہ نے ہرمز آبنائے کو مستقل طور پر کھولنے کا اعلان کیا، چین کے ساتھ مفاہمت کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہرمز آبنائے کو مستقل طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے، جو کہ خلیج سے تیل کی برآمد کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔ بدھ (14/4) کو ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ عالمی مفاد، خاص طور پر توانائی کی تقسیم میں استحکام کے لیے کیا گیا ہے، اور بتایا گیا ہے کہ چین نے اس پالیسی کا خیرمقدم کیا ہے۔
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ابتدائی مفاہمت حاصل کی ہے، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ بیجنگ ایران کو ہتھیار بھیجنے پر رضامند نہیں ہے۔ تاہم، چین یا ایران کی جانب سے اس دعوے کی ابھی تک سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اگرچہ امریکہ نے آبنائے کو کھلا ہوا قرار دیا ہے، مگر میدانی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کی طرف سے ناکہ بندی اب بھی امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں سے متعلق جہازوں کو متاثر کر رہی ہے۔
ہرمز آبنائے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے جس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ توانائی کی قیمتوں اور عالمی معاشی استحکام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ براہ راست ملاقات کے منصوبے کا بھی ذکر کیا ہے تاکہ تعاون کے تعلقات کو مضبوط بنایا جا سکے۔ سرکاری تصدیق اور میدانی صورت حال میں تبدیلی کے بغیر، اس دعوے کے نفاذ اور اثرات کے بارے میں سوالات ابھی باقی ہیں۔ بین الاقوامی برادری خطے اور عالمی معیشت پر وسیع اثرات کے پیش نظر اس صورت حال کی ترقی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
https://www.gelora.co/2026/04/