شرعی احکام کی پابندی کا آغاز حلال رزق کی حفاظت سے ہوتا ہے
آچے میں شریعت اسلامی کی خلاف ورزیوں کے مختلف کیسز پھر سے سامنے آ رہے ہیں، جن میں اعلیٰ عہدیداروں سے منسوب زنا کے الزامات بھی شامل ہیں۔ یہ صورتحال یہ سوال اٹھاتی ہے کہ آخر "سرمبی مکہ" میں یہ خلاف ورزیاں بار بار کیوں ہو رہی ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے، جن پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے، ان میں سے ایک نافرمانی اور حرام مال کے درمیان تعلق ہے۔
قرآن اور حدیث ہمیں خبردار کرتے ہیں کہ کھانا، پینا اور روزی کا ذریعہ دل کی کیفیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ حرام طریقے سے کمایا گیا مال، جیسے کرپشن اور رشوت، روحانی طور پر برے اثرات مرتب کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک مسافر کی مثال دی جس کی دعا اس لیے قبول نہیں ہوتی کیونکہ وہ حرام کھاتا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ حرام مال اللہ کی رحمت سے روک دیتا ہے۔
علماء وضاحت کرتے ہیں کہ بڑے گناہ اکثر ایسے دل سے شروع ہوتے ہیں جو حرام چیزوں کا عادی ہو جائے، جس سے شرم اور اللہ کا خوف کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہ چیز انسان کو اخلاقی خلاف ورزیوں کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
آچے میں پیش آنے والے کیسز کو ہمارے لیے ایک اجتماعی خود احتسابی کا سبب بننا چاہیے، تاکہ ہم صرف قصورواروں کو نہ دیکھیں بلکہ مسئلے کی جڑ کو بھی سمجھیں۔ عہدہ اور دینی تعلیم اس وقت تک پرہیزگاری کی ضمانت نہیں دے سکتے جب تک روزی کی حلال کی حفاظت نہ کی جائے۔
https://www.harianaceh.co.id/2