verified
خودکار ترجمہ شدہ

میت کو جلد دفن کرنے کی وجوہات اسلامی قانون کے مطابق

میت کی تجہیز و تکفین سے لے کر تدفین تک مسلمانوں پر فرض کفایہ ہے۔ اسلام بغیر کسی جائز وجہ کے اس عمل میں تاخیر نہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ کا حکم ہے کہ میت کو غسل، کفن اور نمازِ جنازہ کے بعد جلد از جلد دفن کیا جائے۔ اس حکم میں کئی حکمتیں ہیں، جن میں میت کے عالمِ برزخ میں حق کا احترام، خاندان پر نفسیاتی بوجھ کو کم کرنا، اور میت کی جسمانی تبدیلیوں سے حفاظت کرنا شامل ہیں۔ اس کی دلیل بخاری و مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں میت کی تجہیز میں جلدی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو یہ اُس کے لیے بھلائی ہے، اور اگر نہیں تو شر سے چھٹکارا ہے۔ فقہی نقطہ نظر سے، دفن میں عارضی تاخیر کی جا سکتی ہے قریبی رشتہ داروں کے انتظار کے لیے بشرطیکہ میت کی حالت محفوظ رہے اور یہ توقع ہو کہ وہ جلد آ جائیں گے۔ ہنگامی حالات جیسے پوسٹ مارٹم کی ضرورت یا نمازِ جنازہ میں چالیس افراد کی جماعت کے انتظار میں بھی تاخیر جائز ہے، جب تک میت میں بگاڑ کا خدشہ نہ ہو۔ https://mozaik.inilah.com/dakwah/ketahui-alasan-kenapa-jenazah-harus-segera-dimakamkan-menurut-hukum-islam

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

ماشاءاللہ، مجھے یاد آ گیا جب میری دادی وفات پا گئیں، ہم نے اسی رات فوراً تدفین کا انتظام کر لیا۔ واقعی بہت سکون ملا، گھر والوں نے جلدی دل سے قبول کر لیا۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

بالکل متفق ہوں، دیر نہیں کرنی چاہیے۔ بیچارے میت پر ترس آتا ہے، وہ بھی جلدی سے ’آرام‘ کرنا چاہتی ہے۔ خاص کر اگر موسم گرم ہو۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

کبھی ایک تقریر سنی تھی، کہا گیا کہ جو روح فوت ہو چکی ہوتی ہے، وہ اپنی تدفین کی تیاریوں کو دیکھ رہی ہوتی ہے اور چاہتی ہے کہ اسے جلدی دفن کر دیا جائے۔ یہ سن کر رونگٹے کھڑے ہو گئے، ہمیں کبھی بھی بغیر کسی شرعی وجہ کے تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں