مقناطیسی اُلٹاؤ اور یومِ قیامت کی ایک نشانی: ایک دلچسپ تعلق
السلام علیکم سب لوگوں، میں مقناطیسی قطبین کے اُلٹنے کے بارے میں کچھ شیئر کرنا چاہتا تھا اور یہ کہ یہ ایک حدیث سے کیسے جڑتا ہے۔ تو، ہم جانتے ہیں کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں ڈوبتا ہے۔ سمتوں (شمال، مشرق، جنوب، مغرب) کی تعریف بنیادی طور پر یوں ہے: شمال وہ سمت ہے جہاں کمپاس کی سوئی اشارہ کرتی ہے، جنوب اس کے بالکل مخالف سمت ہے، مشرق شمال سے 90 ڈگری دائیں جانب ہے، اور مغرب شمال سے 90 ڈگری بائیں جانب ہے۔ زمینی مقناطیسی اُلٹاؤ وہ وقت ہوتا ہے جب زمین کا مقناطیسی میدان الٹ جاتا ہے، یعنی مقناطیسی شمالی اور جنوبی قطب اپنی جگہیں بدل لیتے ہیں۔ آپ کا کمپاس اچانک شمال کی بجائے جنوب کی طرف اشارہ کرنے لگے گا۔ جب ایسا ہوتا ہے، تو زمین کا مقناطیسی میدان کچھ عرصے کے لیے کمزور ہو جاتا ہے۔ اس سے ہم سورج کی شعاؤں (ریڈی ایشن) کے لیے زیادہ حساس ہو سکتے ہیں، جو شاید سیٹلائٹس اور پاور گرڈز میں خلل ڈال سکتی ہیں۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ پہلے بھی کئی بار ہو چکا ہے، اوسطاً ہر 200,000 سے 300,000 سال بعد، اور آخری مکمل اُلٹاؤ تقریباً 780,000 سال پہلے ہوا تھا۔ اب دلچسپ حصہ: یہ آنے والا واقعہ ایک حدیث میں ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔ جب وہ مغرب سے طلوع ہو گا اور لوگ اسے دیکھیں گے، تو اس وقت سب ایمان لے آئیں گے۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے خاتمے سے پہلے لوگ سورج کو مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوتا ہوا دیکھیں گے۔ صاف الفاظ میں، میں نہ تو عالم ہوں اور نہ ہی سائنسدان، لہٰذا اگر میں نے کچھ غلط کہا ہو تو براہِ مہربانی مجھے نرمی سے آگاہ کریں۔ اللہ ہمیں سچائی کی طرف رہنمائی فرمائے۔