پیاری بہن کی دیکھ بھال میں معافی اور طاقت کی تلاش
السلام علیکم۔ میری بہن کو دن رات مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت ہے-کھانے پینے، نہلانے دھلانے، اِدھر اُدھر لے جانے اور اس کے طبی آلات استعمال کرانے تک۔ میرے والد، اللہ انہیں سلامت رکھے، اس کی مرکزی دیکھ بھال کرنے والے ہیں، مگر ان کی عمر کا اثر ظاہر ہونے لگا ہے اور ان کے لیے یہ کام مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ میں گھر کے اخراجات میں مدد کے لیے دو نوکریاں کرتی ہوں اور جتنا ہو سکے گھر پر بہن کی مدد کرتی ہوں، مگر یہ واقعی بہت تھکا دینے والا ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی میرے ذہن میں میرے والد اور بہن کی صحت کے مستقبل کے بارے میں فکر چھا جاتی ہے۔ استغفراللہ، میں اپنی بہن سے بے حد پیار کرتی ہوں اور اس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ پھر بھی، جب بالکل ہی بے بس ہو جاتی ہوں تو ایک خوفناک خیال میرے ذہن میں آتا ہے کہ اگر وہ... تو اس کی زندگی کم تکلیف دہ اور ہمارے لیے بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ میں تو اس خیال کو پورا کہہ بھی نہیں پاتی، کیونکہ ایسا خیال دل میں آنے پر میں اپنے آپ سے شدید شرمندہ اور بیزار محسوس کرتی ہوں۔ میں اپنے خاندان کے لیے مسلسل دعا کرتی ہوں، مگر کبھی کبھی میں آنے والے وقت کے بارے میں بے بس اور خوفزدہ محسوس کرتی ہوں۔ میں اللہ پر پورا بھروسہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں، مگر یہ بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں اور اکثر تنہا محسوس کرتی ہوں، جیسے کوئی سمجھتا ہی نہیں۔ میں کبھی کبھی پوچھتی ہوں، 'ہمارے ساتھ ہی کیوں؟ میرے والد اور بہن کے ساتھ ہی کیوں؟' میں جانتی ہوں کہ ہر جان کو آزمایا جاتا ہے، مگر یہ آزمائش بہت شدید، مشکل اور ناانصافی محسوس ہوتی ہے، حالانکہ میں اللہ کے فیصلے کو قبول کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میری اپنی ذاتی خواہشات ہیں، جیسے شادی کرنا اور دنیا زیادہ دیکھنا، مگر میں اپنے جدوجہد کرتے خاندان کو چھوڑ کر ان خواہشات کے پیچھے بھاگنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی، کیونکہ میرے لیے وہی سب کچھ ہیں۔ میں ہم سب کے لیے صبر، آسانی اور طاقت کی دعا کرتی ہوں۔