ظلم کا سامنا کرنے سے ڈر لگتا ہے؟ یہ ہے قرآن کا جواب تاکہ ایمان مضبوط رہے
قرآن پاک کی سورہ یونس کی آیت 84 سے 86 سکھاتی ہے کہ ظلم کا ڈر ایمان پر غالب نہیں آنا چاہیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو یاد دلایا کہ اللہ پر توکل کرو، یہی سچے ایمان کا نتیجہ ہے۔ توکل کا مطلب ہار مان لینا نہیں، بلکہ پوری کوشش کرنے کے بعد اصولوں پر جمے رہنے کی طاقت دیتا ہے۔
ان آیات میں، ایمان والے لوگ دعا کرتے ہیں کہ انہیں ظالموں کے فتنے کا نشانہ نہ بنایا جائے اور کافروں سے نجات دی جائے۔ یہ دعا دو پریشانیوں کو ظاہر کرتی ہے: جسمانی خطرہ اور دباؤ کی وجہ سے دینی ثابت قدمی کھونے کا اندیشہ۔
انڈونیشیا کے وزارت مذہبی امور کی تفسیر اس بات پر زور دیتی ہے کہ ایمان کو عملی زندگی میں ظاہر ہونا چاہیے۔ بنی اسرائیل کی کہانی ایک تنبیہہ ہے کہ مذہبی شناخت خود بخود ایمان کی مضبوطی کی ضمانت نہیں دیتی۔ یہ آیت ایک اہم اصول سکھاتی ہے: ڈر کو ایمان چھوڑنے کا بہانہ نہ بناؤ، اور توکل کو بغیر کوشش کے صبر سے مت ملاؤ۔
https://mozaik.inilah.com/dakw