حَدِیثِ قُدسِی کے گہرے مفہوم پر غَور: جب اللہ ہماری سُننے اور دیکھنے کی خَاصِیَّت بن جائے تو یہ قُرَبَت کیا مَطَلَب رکھتی ہے؟
اسلامُ عليكم سب کو، میں ایک حَسِين حَدِیثِ قُدسِی کے بارے میں کافی سوچ رہا ہوں جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب بَندہ نَفلی عبادات سے قریب ہوتا رہتا ہے تو اللہ اُس سے مُحَبّت فرمانے لگتا ہے، اور پھر اُس کی سَماعت، بَصارَت، ہاتھ اور پاؤں بن جاتا ہے۔ یہ بات مُجھے حَقِیقَت میں غَور پَر مَجبُور کر رہی ہے: کیا اِس کا مَطلب یہ ہے کہ ہماری خَواہِش اور رَضَا بالکل اللہ کی مُراد کے مُطابِق ہو جائے؟ اور ہم اِسے کَيف سَمَجھیں کہ نہ تو لَفظی مَطلب لیں اور نہ ہی مَقصُود سے بھَٹک جائیں؟ مَیں آپ کی رائے، مُعتَبَر اسلامی عِلم کی روشنی میں، سُننا بہت قَدر دانی کے ساتھ چاہوں گا۔