فلسطینی کلیسا نے مسیحی برادری کے وجود کو لاحق خطرات سے خبردار کیا
فلسطین میں کلیسائی امور کے لیے صدارتی اعلیٰ کمیٹی نے اسرائیل کی طرف سے تشدد، جبری بے دخلی اور ایذا رسانی کے باعث فلسطینی مسیحی برادری کو لاحق خطرات کی طرف عالمی توجہ مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ اقدامات ایک منظم طرزِ عمل کا حصہ ہیں جس میں آباد کاروں کا تشدد، زمینوں پر قبضہ، عبادات پر پابندیاں، اور گرجا گھروں اور پادریوں پر حملے شامل ہیں۔
کمیٹی نے طیبہ شہر کا خاص ذکر کیا، جو فلسطین کا واحد مکمل مسیحی شہر ہے اور جس کی آبادی میں تشویشناک کمی واقع ہوئی ہے۔ خط میں بین الاقوامی گرجا گھروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ محض اظہارِ یکجہتی کے بجائے عملی اقدام کریں، فلسطین کا دورہ کریں اور مقامی برادریوں سے براہِ راست سنیں۔
یہ انتباہ اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کی توسیع کے دوران سامنے آیا ہے۔ اسرائیل نے حال ہی میں سلفیت کے مردا میں 2,224 دونم اراضی ضبط کرنے کا فوجی حکم جاری کیا۔ تقریباً 750,000 غیر قانونی یہودی اسرائیلی آباد کار مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں رہتے ہیں، جنہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔
https://www.gelora.co/2026/08/