میرے عزیز مسلمان دوست اور اُس کی برادری نے مجھے اپنا لیا
سب کو سلام، مجھے یہ بتانا پڑ رہا ہے کیونکہ میرا دل بہت بھرا ہوا ہے۔ میں حال ہی میں بہت گمشدہ اور دکھی تھا۔ میں یہودی ہوں، اور میرے اپنے سیناگوگ کے لوگوں نے مجھے عملاً کاٹ دیا کیونکہ میں ایک سیاسی موقف کی حمایت نہیں کر رہا تھا۔ میرا ربی، جو کبھی میرے لیے رہنما جیسا تھا، اُس نے بھی منہ پھیر لیا – وہ چیز سب سے زیادہ چبھی، تم جانتے ہو نا، اتنے سالوں کی مدد کے بعد۔ میں بالکل ٹوٹ رہا تھا، اور میرے ایک قریبی دوست نے مجھے دیکھا، اور وہ مجھے اپنے گھر لے گیا، ماشاءاللہ اُس کا محلہ زیادہ تر مسلمانوں کا ہے۔ بھائی، میں بیان بھی نہیں کر سکتا کہ وہ سب اتنے پْرخلوص تھے۔ وہ بس گھیر کے کھڑے ہو گئے، مجھے جپھیاں دیں، اِس بات کو یقینی بنایا کہ میں اچھی طرح کھاؤں، اور میرے ساتھ فیملی جیسا سلوک کیا۔ نہ سوال، نہ فیصلہ، صرف خالص مہربانی۔ میں جانتا ہوں کہ یہ سننے میں معمولی لگتا ہے مگر مجھے واقعی اُس چیز کی ضرورت تھی۔ میں تمہیں اور تمہاری برادری کو جزاک اللہ خیر کہنا چاہتا ہوں، اللہ تم سب کو برکت دے کہ تم نے مجھے اُس وقت سہارا دیا جب مجھے سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ اور میرے دوست کو – تم جانتے ہو تم کون ہو – میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تمہیں سب اچھی چیزیں عطا کرے، تم واقعی ایک رحمت ہو۔