اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود لبنان پر توپ خانے سے حملے جاری رکھے
اطلاعات کے مطابق مقامی وقت کے مطابق جمعہ (17 اپریل 2026) کی صبح سے نافذ ہونے والے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوجیوں نے جنوبی لبنان کے علاقوں پر توپ خانے کے حملے جاری رکھے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ اس جنگ بندی نے اس تنازعے میں ایک وقفہ کا اشارہ دیا ہے جس میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
لبنانی سرکاری نیوز ایجنسی (این این اے) کی رپورٹ کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے چند منٹ بعد ہی اسرائیلی فوج نے خیام اور دبین شہروں پر توپ خانے سے فائرنگ کی۔ خبروں کے مطابق تقریباً 30 منٹ بعد حملے دوبارہ شروع ہوئے جس کے ساتھ راشیا اور مغربی حرمون پہاڑی کے دامن میں ڈرون کی انٹینسیو پروازیں بھی دیکھی گئیں۔ اسرائیل نے جنگ بندی سے پہلے حملوں میں تیزی لاتے ہوئے کم از کم 11 قصبوں پر جنگی جہازوں سے بمباری کی۔
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے حملے حزب اللہ کے راکٹ لانچرز کو نشانہ بنا رہے تھے۔ جوابی کارروائی کے طور پر حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے اور بارڈر زون میں اسرائیلی فوجی پوزیشنوں پر حملے کرنے کی اطلاعات ہیں۔ اب تک تازہ حملوں سے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
https://www.harianaceh.co.id/2