کیا ہر روح ایمان میں برابر پیدا ہوتی ہے، یا اللہ کچھ کو گناہ کی طرف زیادہ مائل بنا کر پیدا کرتا ہے؟
السلام علیکم، میں کچھ سوچ رہا تھا: کیا اللہ کچھ روحوں کو نیکی کی زیادہ صلاحیت دے کر بناتا ہے، جبکہ دوسروں کو برائی اور ذلیل کاموں کی طرف زیادہ مائل کر کے؟ اور اگر ایسا ہے، تو یہ انصاف کیسے ہے؟ جیسے، اگر اللہ نے میری روح کم ایمان والی بنائی ہے، مثلاً کسی عالم یا نبی کے مقابلے میں، تو خواہ میں کتنی بھی کوشش کر لوں، میں ان کے تقویٰ کے درجے تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہ میرے لیے کیسے منصفانہ ہے؟ اگر اُس نے میری روح گندگی اور گناہ کی طرف کھینچنے والی بنائی، جبکہ کوئی اور فطری طور پر نیکی کی طرف مائل ہو، تو اِس میں انصاف کہاں ہے؟ یا کیا ہر روح ایک غیر جانبدار حالت میں پیدا ہوتی ہے؟ میں سوچ رہا تھا کہ انبیاء کو اِس کردار کے لیے کیوں چُنا گیا۔ بہت سے کہتے ہیں کہ اُن کی روحیں بوجھ برداشت کر سکتی تھیں... لیکن *وہ* برداشت کیوں کر سکتی تھیں؟ ضرور اِس لیے کہ اللہ نے اُنہیں ویسا ڈیزائن کیا تھا۔ اور چونکہ اُس نے ہمیں وہ وزن سنبھالنے کے لیے نہیں بنایا، ہم اُن اونچے درجوں سے محروم ہیں جو انبیاء نے حاصل کیے۔ ایسا لگتا ہے کہ اللہ میری روح کو شکل دیتے وقت ہی میری قسمت کا فیصلہ کر رہا تھا۔