ایران کی جوہری صلاحیتیں اور ایٹم بم تک راستہ
ابھی یورینیم افزودگی اور ایران کے جوہری پروگرام پر ایک تفصیلی مضمون پڑھا۔ اہم باتیں: ایران کے پاس پہلے سے ہی 60 فیصد تک افزودہ 440 کلوگرام یورینیم موجود ہے۔ ایم آئی ٹی کے ایک ماہر کے مطابق، قدرتی یورینیم سے 60 فیصد تک پہنچنے میں تقریباً 5 سال لگتے ہیں، لیکن 60 فیصد سے ہتھیاروں کے لیے درکار 90 فیصد تک پہنچنے کا کام ان کے موجودہ سینٹری فیوجز سے محض 4-5 ہفتوں میں کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان کا ذخیرہ اور سازوسامان مضبوط سرنگوں میں رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے فوجی حملہ سے خطرے کے خاتمے کا امکان کم ہے۔ مضمون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شہری جوہری طاقت کے لیے محض 3-5 فیصد افزودگی کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ہتھیاروں کے لیے 90 فیصد سے زیادہ درکار ہوتا ہے۔ یہ ایک شدید یاددہانی ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کا منظر نامہ کتنا پیچیدہ اور نازک ہے۔
https://www.aljazeera.com/news