ایران نے امریکی خطرے کے جوابی اقدامات کے لیے تیاری کر لی، ’بری نیت کی علامت‘ قرار دیا
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کی ایران کی بندرگاہوں، ساحلی پٹی اور جہازوں کے خلاف تازہ دھمکیاں ’بری نیت اور سفارت کاری میں سنجیدگی کی کمی کی واضح علامتیں‘ ہیں۔ یہ بات انہوں نے اتوار (19/4/2026) کو پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہی۔ عراقچی نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ گزشتہ ایک سال میں حاصل ہونے والے معاہدوں کی بار بار خلاف ورزی کرتا رہا ہے۔
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا۔ یہ ردعمل اس صورت حال کے پیش نظر ہے جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد سے ہرمز آبنائے میں مال کی ترسیل میں شدید رکاوٹیں آئی ہیں، اور واشنگٹن نے 13 اپریل سے سمندری محاصرہ نافذ کر رکھا ہے۔ اسی دن، ایرانی فوجوں نے امریکی جہازوں پر ڈرون حملے بھی کیے، جو امریکہ کی جانب سے ایرانی جہازوں کی گولہ باری اور روکنے کا جواب تھے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان نئی بات چیت اسلام آباد میں منگل (21/4/2026) سے بدھ (22/4/2026) تک ہونے والی ہے، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود ہوں گے۔ پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کے لیے ہتھیار بندی، جو 7 اپریل سے نافذ تھی، ایران کے مطابق ٹوٹ گئی ہے، جس نے امریکی کارروائیوں کا جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔
https://www.harianaceh.co.id/2