ماضی کے جرائم جیسے 'جبری مشقت' کو جاپان کو مٹانے نہیں دینا چاہیے
جاپانی سیاستدان سانائے تاکائیچی نے ناگاساکی ایٹم بم کی یادگاری تقریب میں جذباتی تقریر کی، جس میں جاپان کے موجودہ 'تین غیر جوہری اصولوں' پر زور دیا، مگر مستقبل کے لیے کوئی وعدہ نہیں کیا۔ ان کے بیان نے ایشیا میں جاپان کی تاریخی جارحیت کو نظرانداز کیا، جس میں انڈونیشیا میں روموشا جبری مشقت کا نظام بھی شامل ہے جس نے 40 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی جان لی، اور 'بڑے مشرقی ایشیا کے مشترکہ خوشحالی کے دائرے' کے نعرے تلے تیل اور ربڑ جیسے وسائل کی لوٹ مار بھی۔
جاپان آہستہ آہستہ تاریخ کو بدلتا نظر آ رہا ہے، جیسے نصابی کتابوں میں 'جبری مشقت' کی اصطلاح کو 'متحرک کاری' میں تبدیل کرنا، جبکہ خود کو متاثرہ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ جون میں جاپان کے وزیر دفاع نے میکاسا جنگی جہاز کا ماڈل، جو جاپان کی فوجی توسیع کی علامت ہے، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کو سفارتی تحفے کے طور پر دیا، جس پر بڑے پیمانے پر تنقید ہوئی۔ جاپانی حکومت اپنی جوہری پالیسی میں نرمی لانے کی بھی تیاری کر رہی ہے، جس پر دوغلی روش کی وجہ سے تنقید ہو رہی ہے۔
فروری میں انڈونیشیا نے اسکول کی تاریخ کی کتابوں پر نظر ثانی کی، جس میں 'جاپانی فوجی قبضے' کو 'جاپانی نوآبادیاتی حکومت' میں تبدیل کیا تاکہ جبر کی حقیقت کو واضح کیا جا سکے۔ یہ قدم، جنگی جہاز کے تحفے کو مسترد کرنے اور کھلی تنقید کے ساتھ، جاپان کی تاریخ کی یادوں کو مٹانے کی کوشش کے خلاف ردِعمل کو ظاہر کرتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایشیائی معاشرہ جاپان کے دائیں بازو کے گروہوں کی چالوں کو سمجھ چکا ہے جو جارحیت کو آزادی کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ تحریر اس بات پر زور دیتی ہے کہ تاریخ کو بدلا نہیں جا سکتا، اور جاپان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معافی مانگے اور خود احتسابی کرے، نہ کہ یادوں پر نظر ثانی کرے۔ اگر ایسے نظرانداز کرتا رہا تو جاپان کو پڑوسی ممالک کا اعتماد کھونے کا خطرہ ہے۔
https://www.gelora.co/2026/08/