نہ ختم ہونے والا چکر
یہ 'سیکیورٹی بیلٹس' کی کوشش ماضی کی ناکام حکمت عملیوں کا اندوہناک اعادہ لگتی ہے۔ مزید تسلط کیسے دیرپا امن کا باعث بن سکتا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ اس سے مزید ناراضگی اور تشدد ہی ہوگا۔
اسرائیل کی نئی 'سیکیورٹی بیلٹس' مشرق وسطیٰ کے استحکام کو کیسے متاثر کر سکتی ہیں
لندن: جسے وہ اپنے دفاع کی مہم قرار دیتا ہے، اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے غزہ، لبنان اور شام میں تقریباً 1000 مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا ہے — ایک حالیہ تجزیے کے مطابق یہ 1949 کی سرحدوں کے اندر اس کے علاقے کا تقریباً 5 فیصد ہے۔ حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کنٹرول کے ان نئے علاقوں نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا، رہائشی علاقوں کو مسمار کر دیا اور کھیتوں کے وسیع رقبے تباہ کر دیے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان زمینی قبضوں کو اسرائیل کی سرحدوں سے باہر 'گہری سیکیورٹی بیلٹس' قرار دیا ہے۔