عید کی تحفہ خیرات کے طور پر دینا: کیا یہ صحیح انتخاب تھا؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آج ایک بھائی نے مجھے عید پر تقریباً 50 ڈالر کا تحفہ دیا، اللہ انہیں بہت زیادہ اجر دے۔ سچ کہوں تو مجھے پوری طرح سمجھ نہیں آیا کہ انہوں نے مجھے کیوں دیا-نہ انہوں نے اور نہ ہی میرے والدین نے سمجھایا-انہوں نے بس اتنا کہا کہ یہ میرے لیے ہے۔ جب انہوں نے مجھے خیرات کے ڈبے کی طرف جاتے دیکھا تو انہوں نے مجھے وہاں نہ ڈالنے کو کہا۔ لیکن سوچنے کے بعد، چونکہ اب پیسہ میرا ہو چکا تھا، میں نے پھر بھی خیرات کر دی۔ اسے اپنے پاس رکھنا کچھ عجیب سا لگ رہا تھا، اور صدقہ دینا ایک اچھا عمل معلوم ہوا۔ بعد میں، میرے والدین نے پوچھا کہ میں نے پیسے کا کیا کیا، اور میں نے انہیں بتایا کہ خیرات دے دیا۔ وہ ناراض ہو گئے، جو میں سمجھ سکتا ہوں-ہمارے پاس پیسہ کافی تنگ ہے، الحمدللہ کھانے پینے اور بنیادی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں، لیکن ہم مالی طور پر مستحکم نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بھائی ہماری صورتحال جانتے ہیں (میں کالج میں ہوں اور ابھی گھر پر رہتا ہوں) اور مدد کے لیے تحفہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں خود نہیں رکھنا چاہتا تو اپنی بڑی بہن کو دے سکتا تھا، جسے آنکھوں کے چیک اپ اور عینک کی بہت ضرورت ہے۔ اب میں ذہنی کشمکش میں ہوں۔ ایک طرف، ہمیں فوری ضروریات جیسے کھانے یا پانی کے لیے اس پیسے کی ضرورت نہیں تھی، اس لیے صدقہ دینا ٹھیک لگا۔ لیکن ہمارے پاس مستقل آمدنی نہیں ہے، اور پیسہ پیٹرول یا علاج جیسی چیزوں میں مدد کر سکتا تھا۔ میں نے حال ہی میں ایک حدیث بھی پڑھی جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رشتہ دار کو خیرات دینے پر دوہرا اجر ملتا ہے۔ کیا بہن کو دینا بہتر ہوتا؟ آپ کے خیالات کے لیے جزاکم اللہ خیراً۔