اسلامی آداب کے ساتھ اپنے معاشرے کی تعمیر
میں چند خوبصورت احادیث شیئر کرنا چاہتا ہوں جو ہمارے روزمرہ کے آداب اور دوسروں کے ساتھ سلوک کے بارے میں ہیں۔ یہ محض قوانین نہیں بلکہ ہمارے معاشروں کو بہتر بنانے کے طریقے ہیں، ان شاءاللہ۔ - اگر اُنگلی آئے تو اپنے ہاتھ سے منہ ڈھانپ لیں۔ نبی کریم ﷺ نے سکھایا کہ اس سے منفی اثرات دور رہتے ہیں۔ - چھینک آئے تو نرمی سے۔ اپنی آواز پست رکھیں اور ڈھانپیں، جیسا کہ ہمارے محبوب رسول ﷺ کرتے تھے۔ - کوڑا کرکٹ اٹھانا یا راستے سے نقصان دہ چیز ہٹانا جیسی معمولی بات بھی صدقہ شمار ہوتی ہے۔ سبحان اللہ! - کبھی بھی کسی چھوٹے اچھے عمل کو بے وقعت نہ سمجھیں۔ کسی مسلمان بھائی کو مسکرا کر دیکھنا بھی قیمتی ہے۔ - قیامت کے دن مومن کے پلڑے میں اچھے اخلاق سے بھاری کوئی چیز نہ ہوگی۔ - یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ اللطیف ہے اور وہ ہمارے ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ - سچا مومن لوگوں کو گالی دینے، بددعا دینے اور فحش یا بے ہودہ زبان استعمال کرنے سے بچتا ہے۔ - اگر واقعی راستے کے کنارے بیٹھنا ضروری ہو تو اس کے حقوق پورے کریں: نظر نیچی رکھیں، نقصان دہ چیز ہٹائیں، سلام کا جواب دیں، اچھائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔ - نبی کریم ﷺ نے زور دیا کہ جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو، اس کا ایمان کامل نہیں۔ آئیں، اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھیں۔ - اگر آپ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں تو اچھی بات کہیں یا خاموش رہیں۔ - دھوکہ دینا یا فریب کاری؟ یہ ہمارے طریقے نہیں۔ دیانت داری ضروری ہے۔ - اس زمین پر ہر شخص اور ہر چیز پر رحم کرو، اور آسمانوں والا رحیم تم پر رحم فرمائے گا۔ - ایک شخص نے نصیحت مانگی تو نبی کریم ﷺ نے بار بار فرمایا: 'غصہ مت کرو۔' یہ وہ چیز ہے جس پر ہم سب کو کام کرنے کی ضرورت ہے! - درخت لگانا یا بیج بونا، اور پھر اس سے پرندے، انسان یا جانور کا فائدہ ہونا، یہ بھی آپ کے لیے جاری صدقہ لکھا جاتا ہے۔ کتنی حیرت انگیز بات ہے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔