ماہرینِ آثار قدیمہ کی ٹیم نے کرغزستان کی جھیل اسیک کول میں ڈوبا ہوا شاہراہِ ریشم کا شہر دریافت کر لیا
روسی اور کرغز اکیڈمی آف سائنسز کے ماہرینِ آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے کرغزستان کی جھیل اسیک کول میں ڈوبے ہوئے قرونِ وسطیٰ کے تجارتی مرکز کی باقیات دریافت کی ہیں۔ خیال ہے کہ یہ شہر پندرہویں صدی کے آغاز میں ایک بڑے زلزلے کے باعث ڈوب گیا تھا۔
1 سے 4 میٹر کی گہرائی میں کی گئی زیرِآب تحقیق میں قدیم سڑکیں، عوامی عمارتیں اور ایک قبرستان کا کمپلیکس شناخت کیا گیا۔ پکی اینٹوں کی دیواریں اور پتھر کی چکیاں جیسی دریافتیں ایک جدید شہری منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اسلامی تہذیب کے آثار بھی ملے ہیں، جن میں ایک مسجد، عوامی حمام، مدرسے اور تقریباً 14 ہیکٹر پر پھیلا مسلم قبرستان شامل ہیں۔ کچھ قبریں جھیل کی لہروں سے کٹ کر بہہ گئی ہیں، جن سے اسلامی روایت کے مطابق دفنائے گئے ڈھانچے ظاہر ہو رہے ہیں۔
اسلام سے پہلے یہ علاقہ تینگری ازم، بدھ مت اور نسطوری عیسائیت کی روایات کے ساتھ کثیر الثقافتی تھا۔ تباہی کے وقت کا درست تعین کرنے کے لیے شجری دائروں اور ریڈیو کاربن تجزیے کے ذریعے مزید تحقیق کی جا رہی ہے، اور ساتھ ہی کٹاؤ کے خطرے سے دوچار شاہراہِ ریشم کے اس ورثے کو دستاویزی شکل دی جا رہی ہے۔
https://mozaik.inilah.com/news