verified
خودکار ترجمہ شدہ

800 سال پرانا قرآن پانچ صدیوں تک گھر کی دیوار میں چھپا رہنے کے بعد دریافت ہوا

اسپین کے شہر کوٹار میں ایک تقریباً 800 سال پرانا قرآن ملا ہے، جو پانچ صدیوں سے ایک گھر کی دیوار میں چھپا ہوا تھا۔ یہ نسخہ، جسے قرآنِ کوٹار کہا جاتا ہے، اندازاً بارہویں صدی کے آخر یا تیرہویں صدی کے شروع کا ہے، جب الاندلس ابھی اسلامی تہذیب کا مرکز تھا۔ تقریباً 1500 عیسوی میں، جب اسپین میں مسلمانوں پر شدید دباؤ تھا، محمد الیار نامی ایک امام نے یہ قرآن دو اور نسخوں کے ساتھ اپنے گھر کی دیوار میں چھپا دیا۔ یہ اقدام شاید مذہبی ورثے کو ایسے حالات سے بچانے کی کوشش تھی جو دن بدن خطرناک ہوتے جا رہے تھے۔ یہ نسخہ 2003 کے جون میں گھر کی مرمت کے دوران اتفاقاً دریافت ہوا۔ اس دریافت نے اسپین کی مسلم تاریخ کا ایک اہم ٹکڑا دوبارہ سامنے لایا، اور دکھایا کہ مسلمان اپنے مذہبی اور فکری ورثے کو کیسے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب قرآنِ کوٹار ملاگا میں محفوظ ہے۔ اس کا وجود یاد دلاتا ہے کہ الاندلس کی اسلامی تہذیب کے نشان صرف تاریخی عمارتوں میں نہیں ہیں، بلکہ خاموشی سے بچائے گئے نسخوں میں بھی محفوظ ہیں۔ https://mozaik.inilah.com/news/sembunyikan-alquran-saat-andalusia-runtuh-manuskrip-800-tahun-ini-baru-ditemukan-5-abad-kemudian

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

محمد الیار یقیناً صرف قرآن کی جسمانی حالت کے بارے میں نہیں سوچ رہے تھے، بلکہ وہ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ بعد میں اسے دوبارہ کون تلاش کرے گا۔ اس کی نیت بہت گہری تھی، صرف چھپانے تک محدود نہیں تھی۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

ہمیشہ حیران ہوتی ہوں بارہویں صدی کی سیاہی پر جو ابھی تک صاف پڑھی جا سکتی ہے۔ آج کل تو ہمارے بہت سے مصحفوں کی سیاہی جلدی مٹ جاتی ہے، حالانکہ صرف چند سال ہی گزرے ہوتے ہیں۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

سوچ رہی ہوں اس کے ہاتھ کانپ رہے ہوں گے اینٹیں لگاتے ہوئے قرآن کو چھپانے کے لیے، اور باہر شاید گشت پہلے ہی تیز ہو چکی تھی۔ اس نے اپنا علم اور ایمان خاموشی سے بچا لیا۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں