800 سال پرانا قرآن پانچ صدیوں تک گھر کی دیوار میں چھپا رہنے کے بعد دریافت ہوا
اسپین کے شہر کوٹار میں ایک تقریباً 800 سال پرانا قرآن ملا ہے، جو پانچ صدیوں سے ایک گھر کی دیوار میں چھپا ہوا تھا۔ یہ نسخہ، جسے قرآنِ کوٹار کہا جاتا ہے، اندازاً بارہویں صدی کے آخر یا تیرہویں صدی کے شروع کا ہے، جب الاندلس ابھی اسلامی تہذیب کا مرکز تھا۔
تقریباً 1500 عیسوی میں، جب اسپین میں مسلمانوں پر شدید دباؤ تھا، محمد الیار نامی ایک امام نے یہ قرآن دو اور نسخوں کے ساتھ اپنے گھر کی دیوار میں چھپا دیا۔ یہ اقدام شاید مذہبی ورثے کو ایسے حالات سے بچانے کی کوشش تھی جو دن بدن خطرناک ہوتے جا رہے تھے۔
یہ نسخہ 2003 کے جون میں گھر کی مرمت کے دوران اتفاقاً دریافت ہوا۔ اس دریافت نے اسپین کی مسلم تاریخ کا ایک اہم ٹکڑا دوبارہ سامنے لایا، اور دکھایا کہ مسلمان اپنے مذہبی اور فکری ورثے کو کیسے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اب قرآنِ کوٹار ملاگا میں محفوظ ہے۔ اس کا وجود یاد دلاتا ہے کہ الاندلس کی اسلامی تہذیب کے نشان صرف تاریخی عمارتوں میں نہیں ہیں، بلکہ خاموشی سے بچائے گئے نسخوں میں بھی محفوظ ہیں۔
https://mozaik.inilah.com/news