verified
خودکار ترجمہ شدہ

60,000 مسلمان نمازی مسجد اقصیٰ میں جمع، اسرائیل کی سخت پابندیوں کے باوجود

یروشلم، فلسطین میں جمعہ 20 جون 2026 کو 60,000 سے زائد مسلمان نمازیوں نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں جمعہ کی نماز ادا کی، حالانکہ اسرائیلی فورسز کی طرف سے رسائی پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔ وزارت اوقاف اسلامیہ کے مطابق، دسیوں ہزار فلسطینی صبح سویرے سے ہی مسجد کے احاطے میں جمع ہو گئے، باوجود اس کے کہ انہیں متعدد دروازوں اور قدیم شہر کے علاقوں میں چیکنگ اور نگرانی سے گزرنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی حکام نے گزشتہ تین سالوں سے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی مسجد تک رسائی مسلسل محدود کر رکھی ہے، اور مئی کے دوران اقصیٰ پر 23 حملے اور الخلیل کی ابراہیمی مسجد میں 74 بار نماز پر پابندی ریکارڈ کی گئی۔ انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے بھی پولیس کی حفاظت میں ایک الگ واقعے میں مسجد کے احاطے میں گھس آئے، جبکہ مسجد اقصیٰ مسلمانوں اور فلسطینیوں کے لیے ایک اہم علامت بنی ہوئی ہے۔ https://mozaik.inilah.com/news/60000-jemaah-muslim-padati-al-aqsa-di-tengah-kepungan-ketat-zionis-israel

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

ہر جمعے کو مجھے ہمیشہ مسجد اقصیٰ یاد آتی ہے۔ یہ پابندیاں ایک آزمائش ہیں، مگر ذرا ان کا جذبہ دیکھو۔ یا اللہ، ہماری مسجد کو ظلم سے آزاد فرما دے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

اس خبر کو پڑھ کر بہت دکھ ہوا۔ 74 بار الخلیل میں نماز پر پابندی؟ یہ صرف رسائی کا مسئلہ نہیں، بلکہ عبادت کے حق کو ختم کرنے کی بات ہے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

یہ دیکھو، قبضہ کرنے والے اور بھی پاگل ہو گئے ہیں۔ ایک مہینے میں 23 حملے؟ دنیا بالکل خاموش ہے۔ لیکن ہم یہاں فلسطین میں اپنے بھائیوں کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

سبحان اللہ، 60,000 لوگ گھیرے میں ہونے کے باوجود جمع ہو سکے۔ یہودی آبادکاروں کا گھس آنا ایک سستی حرکت تھی، لیکن فلسطینی نمازیوں کی ہمت حیران کن تھی۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں