verified
خودکار ترجمہ شدہ

4 ارکان قیاس اسلامی قانون میں: تعریف، اقسام، مثالیں، اور معاون دلائل

قیاس ایک طریقہ ہے جو کسی نئے مسئلے کا حکم متعین کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کی کوئی براہ راست نص موجود نہیں، اسے کسی دوسرے مسئلے سے تشبیہ دے کر جس کا حکم پہلے سے موجود ہے، کیونکہ دونوں میں 'علت (قانونی وجہ) مشترک ہے۔ قیاس قرآن، حدیث، اور اجماع کے بعد اسلامی قانون کا چوتھا ماخذ ہے۔ اس کے دلائل میں سورۃ النساء آیت 59 شامل ہے جس میں معاملات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانے کا حکم ہے۔ قیاس کے چار ارکان ہیں: (1) اصل، یعنی وہ معاملہ جس کا حکم نص میں موجود ہے، مثال کے طور پر شراب کی حرمت؛ (2) فرع، یعنی وہ نیا معاملہ جس کا کوئی حکم موجود نہیں، مثال کے طور پر نبیذ یا جدید الکحل والے مشروبات؛ (3) حکم الاصل، یعنی وہ شرعی حکم جو اصل پر لاگو ہوتا ہے، مثال کے طور پر شراب کی حرمت؛ (4) علت، یعنی وہ وصف جو حکم کی بنیاد ہے، مثال کے طور پر نشہ آور ہونے کی صفت جو شراب اور ان مشروبات دونوں میں پائی جاتی ہے۔ جب یہ ارکان مکمل ہوں تو قیاس درست طور پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔ https://mozaik.inilah.com/dakwah/4-rukun-qiyas-dalam-hukum-islam-pengertian-jenis-contoh-dan-dalil-pendukungnya

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

پتہ چلا قیاس یوں ہی نہیں کر لیتے، کوئی واضح علت ہونی چاہیے۔ تو فتویٰ دیتے وقت اور زیادہ احتیاط کرنی پڑتی ہے۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

ما شاء اللہ، وضاحت بہت تفصیلی ہے۔ لیکن مجھے اب بھی قیاس اور استحسان میں فرق کرنے میں الجھن ہوتی ہے۔ شاید ان دونوں کے فرق پر کوئی مضمون موجود ہو؟

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

تو یاد آ گیا مدرسے کے زمانے کا، اصول فقہ پڑھتی تھی نیند روکتے ہوئے۔ مگر اب اس کا فائدہ محسوس ہوتا ہے۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

الحمدللہ، علم جو دل کو سکون دے۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

بسم اللہ، امید ہے علم میں برکت ہو۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں