اللہ کرے کہ غزہ سردیوں اور امداد کی کمی کے حال میں راحت دے۔
السلام علیکم - اللہ ان لوگوں کو آسانی عطا فرمائے جو مصیبت میں ہیں۔
حماس نے عالمی czerwony krzyż کے ذریعے ایک اور اسرائیلی قیدی کی لاش حوالے کی، جبکہ غزہ کی پٹی میں خاندان سردی کے مہینوں کی تیاری کر رہے ہیں جہاں شیلٹر، کھانے، اور دیگر بنیادی چیزوں کی کمی ہے۔
حکام کے مطابق، اس منتقلی کے بعد غزہ میں چھ قیدیوں کی باقیات ابھی بھی موجود ہیں۔ لاشیں واپس کرنا جنگ بندی معاہدے میں ایک اہم مسئلہ بن رہا ہے، اسرائیل کا کہنا ہے کہ تمام باقیات کو لوٹانا ضروری ہے، جبکہ حماس کہتا ہے کہ بڑے نقصان اور بھاری سامان کی محدودیاں بازیابی کو مشکل بنا رہی ہیں۔ رپورٹرز نے بتایا کہ اس ہفتے واپس آئی لاش شجایا کے علاقے میں ملبے میں کھدائی کے چار دن بعد ملی، جو کہ کئی مہینوں سے اسرائیلی کنٹرول میں ہے، اور ایک مصری ٹیم نے اس کام میں مدد کی۔
کشیدگی کا سلسلہ جاری رہا: اسرائیلی فورسز نے وسطی غزہ میں دو فلسطینیوں کو ہلاک کرنے کی اطلاع دی، اور مقامی صحت کے حکام نے کہا کہ ایک اور فلسطینی لکڑی اکٹھی کرتے وقت ہلاک ہو گیا۔
انسانی ہمدردی کے گروہ خبردار کر رہے ہیں کہ، اگرچہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد امداد میں کچھ اضافہ ہوا ہے، غزہ میں خوراک اور سامان کی مقدار اس سے کہیں کم ہے جتنا ضروری ہے۔ عالمی خوراک پروگرام کے ایک سینیئر ترجمان نے کہا کہ ہم سردی کے موسم کے ساتھ وقت کے خلاف دوڑ میں ہیں، اور یہ کہا کہ کراسنگ کھولیں تاکہ امداد جلدی پہنچائی جا سکے۔
غزہ کے حکام نے کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے آغاز میں اوسطاً روزانہ تقریباً 145 امدادی ٹرکوں کی اجازت دی - یہ معاہدے کی ضرورت 600 ٹرک روزانہ کا ایک چھوٹا حصہ ہے۔ نارویجن پناہ گزین کونسل نے بھی رپورٹ کیا کہ خیمے اور کمبل جیسی پناہ گزینی اشیاء لانے کے لیے بہت سی درخواستیں مسترد کر دی گئیں، اور یہ انتباہ کیا کہ خاندانوں کو سردی کی بارشوں اور سردی سے بچانے کے لیے وقت بہت کم ہے۔
دوسری جانب، ہزاروں بے گھر فلسطینی - جن میں سے بہت سے لوگ دو سال کی بمباری میں اپنے گھر کھو چکے ہیں - غزہ بھر میں کمیونٹی سوپ کچنز پر انحصار کر رہے ہیں۔ "ہمارے لیے زندگی مشکل ہے، کیونکہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی کھانے کے لیے کچھ خریدنے کو ہے۔ کوئی کام نہیں ہے،" ایک نو بچوں کے باپ نے کہا۔ چھ بچوں کی ماں نے کہا کہ وہ روزانہ سوپ کچن آتی ہے تاکہ اس کے بچے کھا سکیں، اور اس جنگ بندی کو ایک "فریب" قرار دیا کیونکہ محاصرے اور پابندیاں برقرار ہیں۔
اللہ غزہ کے لوگوں کی مشکلات آسان کرے، جو لوگ مصیبت میں ہیں انہیں صبر عطا کرے، اور بلا روک ٹوک انسانی رسائی اور امداد کا راستہ کھولے۔
https://www.aljazeera.com/news