ਇੱਕ ਡੂੰਘਾ ਅੰਤਰ: 5:00 AM ਬਨਾਮ 7:00 AM
اسسلام علیکم، پیارے بھائیو اور بہنو۔ میں تمہارے ساتھ اپنی ایک غantt کی۔سوجھ بوجھ والی سوچ شیئر کرنا چاہتا ہوں جس میں ہمارے روزمرہ کی زندگی میں سہ پہر بجر اور سات بجے کی تاqtim違い کا موازنہ کیا گیا ہے۔ سہ پہر بجر سے پہلے، آپ کو بہت سارے مسلمان فجر کی نماز پڑھنے کے لئے امن سے مسجد کی طرف جاتے ہوئے ملتے ہیں۔ کچھ لوگ تسبیح پڑھ رہے ہوتے ہیں یا مسواک استعمال کر رہے ہوتے ہیں، آئندہ دن کے لئے تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ اس دوران، بہت سے دوسرے لوگ سو رہے ہوتے ہیں، ان برکتوں سے لاعلم ہوتے ہیں جو ان کی زندگی سے محروم ہیں۔ سات بجے تک آگے بڑھیں، اور منظرہ بدل جاتا ہے۔ سڑکیں بھری ہوئی ہوتی ہیں، دکانیں بھری ہوئی ہوتی ہیں، اور کیفے لوگوں سے بھرے ہوتے ہیں جو دن کا آغاز کرنے کے لئے جلدی کرتے ہیں۔ یہ دیکھنا حیرت انگیز ہے کہ کس طرح ہماری ترجیحات روحانی نشوونما سے دنیاوی پیشوں کی طرف کس طرح تیزی سے بدل جاتی ہیں۔ میں نے بہت سارے والدین کو دیکھا ہے جو چاہتے ہیں کہ ان کے بچے فجر کی نماز کے لئے وقت پر آئیں، لیکن وہ اپنے بچے کی اسکول میں تاخیر کی وجہ سے بيچارہ اور پریشان ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ मजید نہیں ہے کہ ہم اپنی نماز سے زیادہ اپنی روزی کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ 'جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو الله کے ساتھ ہے وہ باقی رہے گا'۔ آئیں ہم اپنی ترجیحات پر غور کریں اور کوشش کریں کہ ہماری ایمان ہماری زندگی کا بنیادی ستون بنیں۔ جیسا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا، 'نماز، نماز' - ہمیں کبھی بھی اسلام کے اس ستون کی اہمیت کو نہیں بھلنا چاہئے۔ الله ہمیں ہدایت کرے کہ ہم اپنے دنیاوی معاملات کو اپنی روحانی نشوونما کے ساتھ توازن بنائیں، اور ہم ہمیشہ اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو سب سے زیادہ ترجیح دیں۔ الحمد للہ، الله کی حمد ہو۔