ایک جان کو قتل کرنا پوری انسانیت کے قتل جیسا کیوں کہا جاتا ہے؟ اسلام میں اس کی وجہ یہ ہے
انڈونیشیا میں دوبارہ قتل اور بے حرمتی کا واقعہ پیش آیا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب انسانی زندگی کی قدر و قیمت ختم ہو جائے تو کتنی خوفناک صورت حال ہوتی ہے۔ اسلام میں، انسانی جان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امانت ہے جس کی بہت بلند حیثیت ہے اور اس کی حفاظت واجب ہے۔ قرآن بغیر کسی جائز وجہ کے ایک جان کو ختم کرنے کے گناہ کی سنگینی کو یوں بیان کرتا ہے: "جس نے کسی شخص کو قتل کیا، نہ کسی کے بدلے میں، نہ زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے، تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا۔" (سورۃ المائدہ [5]: 32)۔
جان کی حفاظت شریعت اسلامی کے بنیادی مقاصد کا حصہ ہے۔ امام شاطبی نے الموافقات میں پانچ بنیادی ضروریات کا ذکر کیا ہے جن کی شریعت حفاظت کرتی ہے، یعنی دین، جان، عزت، مال اور نسب۔ اسلام میں قتل کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا جاتا ہے، قرآن اور حدیث میں اس کے لیے سخت وعیدیں ہیں۔ سورۃ النساء [4]: 93 میں جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرنے والے کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر ہے، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کا ختم ہو جانا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے ناحق قتل ہونے سے ہلکا ہے۔
اسلام نے نہ صرف اخلاقی ممانعت کی ہے بلکہ قانونی طریقہ کار بھی فراہم کیا ہے جیسے قصاص اور دیت تاکہ انصاف ملے اور قتل کی روک تھام ہو۔ سورۃ البقرہ [2]: 178-179 میں قصاص کے واجب ہونے اور اس کی حکمت کو زندگی کی بقا کی ضمانت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ قصاص صرف سزا نہیں ہے، بلکہ معاشرے کی حفاظت بھی ہے جو مجرم کے لیے جوابدہی کی یقین دہانی اور روک تھام کا اثر فراہم کرتی ہے۔
قتل اور بے حرمتی کے واقعات کو یاد دہانی ہونی چاہیے کہ انسانی زندگی کا احترام مل کر برقرار رکھنا ہے۔ اسلام میں، ایک جان صرف ایک عدد نہیں ہے، بلکہ ایک امانت ہے جس کی عزت اور دنیا میں بھی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جوابدہی کا نتیجہ ہے۔
https://mozaik.inilah.com/dakw