خدا کے گھر میں جب رتبے فنا ہو جائیں تو کیا باقی رہتا ہے؟
السلام علیکم دوستو۔ میں ایک ایسی بات پر سوچ رہا تھا جو جب آپ کے سامنے ہوتی ہے تو روح ہل کر رہ جاتی ہے۔ تو احمد راولپنڈی کا ایک سادہ موچی تھا، دن رات پھٹے جوتے ٹانکتا۔ ایک جمعہ کو، جب وہ کام کر رہا تھا اور جسمانی تھکان محسوس کر رہا تھا، اذان گونجی۔ ٹھیک اسی وقت شہر کا وہ بڑا افسر بھی مسجد جا رہا تھا، شفاف کپڑوں میں سنورا ہوا۔ احمد نے اپنی چھوٹی سی دکان بند کی، وضو کیا، اور جماعت میں شامل ہو گیا۔ اپنے تھکے ہوئے جسم اور خاکسار لباس میں وہ آگے کی قطار میں بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد، وہ افسر بھی آیا اور اسی کے پہلو میں، کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھ گیا۔ سبحان اللہ، گویا ان کے دنیاوی لیبل اسی وقت گرتے ہی دکھائی دے رہے تھے۔ امام نے نماز شروع کر دی، اور وہ دونوں کھڑے تھے-نہ کوئی خطاب، نہ کوئی عہدہ، صرف دو بندے اپنے رب کے سامنے رکوع و سجدہ کر رہے تھے۔ ان چند لمحوں کے لیے، موچی اور بڑے افسر بالکل برابر تھے۔ دولت اور رتبے کی کوئی اہمیت باقی نہ رہی۔ یہ اسلام کی حقیقی خوبصورتی ہے، ہے نا؟ آپ مسجد کے اندر قدم رکھتے ہی باہر کے تمام تکلف دروازے پر چھوڑ آتے ہیں۔ مسجد یہ درس دیتی ہے کہ جب آپ اللہ کے سامنے ہوتے ہیں تو آپ کی معاشرتی حیثیت صفر ہوتی ہے۔ یہ دین انصاف، عاجزی، اور ہر روح پر رحم کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ اللہ کے گھر میں آپ 'احمد جوتا ٹانکنے والا' یا 'بڑا افسر' نہیں ہوتے۔ آپ صرف اور صرف 'بندۂ رحمان' ہوتے ہیں، اور ہر انسان اس کی مخلوق ہونے کے ناطے عزت رکھتا ہے۔ اس کے حضور، وہ تمام خطابات جو ہمیں جدا کرتے ہیں، پگھل جاتے ہیں۔ جو باقی رہتا ہے وہ ایک بندہ ہے جو عاجزی سے اپنے خالق کے سامنے کھڑا ہے۔