حضرت صالح علیہ السلام اور قوم ثمود کا واقعہ
حضرت صالح علیہ السلام قوم ثمود کی طرف بھیجے گئے نبی تھے، جو قوم عاد کے بعد آئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی نعمتوں سے نوازا تھا-دولت، حسین زمینیں، اور پہاڑوں میں گھر بنانے کا زبردست ہنر۔ قرآن پاک میں بھی اس کا ذکر ہے کہ وہ کتنے ماہرانہ طریقے سے اپنے گھر تراشتے تھے۔ لیکن اتنی نعمتیں ہونے کے باوجود، ان کے معاشرے میں ہر طرف فساد پھیلا ہوا تھا۔ لوگ دو گروہوں میں بٹے ہوئے تھے: کچھ اللہ پر ایمان رکھتے تھے اور کچھ نہیں۔ تو بھی نو آدمی تھے جو فساد پھیلانے میں پیش پیش سمجھے جاتے تھے۔ شروع میں تو لوگوں نے حضرت صالح علیہ السلام کا احترام کیا، لیکن جب آپ نے انہیں اللہ کا شکر ادا کرنے اور صرف اسی کی عبادت کرنے کی تلقین شروع کی تو وہ آپ کے خلاف ہو گئے۔ انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور نشانی کے طور پر کوئی معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ، اللہ نے ایک اونٹنی کو آزمائش کے لیے بھیجا۔ یہ ایک معجزاتی نشانی تھی، اور حضرت صالح علیہ السلام نے لوگوں سے کہا کہ اسے آزادانہ چرنے دیں اور اسے نقصان نہ پہنچائیں۔ انہیں اس کے ساتھ اپنا پانی بھی بانٹنا تھا-ایک دن لوگوں کے لیے، اگلا دن اونٹنی کے لیے۔ لیکن کافروں نے اسے نعمت سمجھنے کے بجائے اسے مار ڈالنے کی سازش کی، جو ان کی سرکشی کو ظاہر کرتی تھی۔ وہی نو فاسد آدمی اس کے پیچھے تھے، اور اونٹنی کو مارنے کے بعد انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کو للکارا کہ وہ وہ عذاب لے آئیں جس کا آپ نے ڈرایا تھا۔ حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں بتایا کہ ان کے پاس انجام بھگتنے سے پہلے تین دن مہلت ہے۔ جب وہ تین دن گزر گئے تو ایک زبردست دھماکے اور زلزلے نے کافروں کو ان کے گھروں میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ حضرت صالح علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کو اللہ کی رحمت نے بچا لیا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نعمتیں ذمہ داریوں کے ساتھ آتی ہیں، اور تکبر برے انجام تک پہنچا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی غفلت سے بچائے اور شکر اور ایمان کی طرف ہدایت دے۔ آمین۔