verified
خودکار ترجمہ شدہ

فلسطین کی آزادی کا وعدہ قرآن میں: دلائل، تاریخ، اور اس کا آخری زمانے سے تعلق

فلسطین کا تنازع مسلمانوں کے لیے اس مقدس سرزمین کے مستقبل کے بارے میں سوالات پیدا کرتا ہے۔ قرآن فلسطین کی زمین کو بابرکت علاقہ بتاتا ہے، جو بنی اسرائیل کو ان کے صبر کے صلے میں ورثے میں دی گئی (سورۃ الاعراف: 137)۔ لیکن بنی اسرائیل کی نافرمانی کی وجہ سے انہیں سزا کے طور پر دنیا کے مختلف کونوں میں منتشر کر دیا گیا۔ قرآن بنی اسرائیل کی طرف سے فساد اور اپنے طاقتور بندوں کے ذریعے فتح کے وعدے کی بھی پیشگوئی کرتا ہے (سورۃ الاسراء: 4-5)۔ اللہ کی مدد یقیناً آئے گی (سورۃ البقرۃ: 214)، اگرچہ اس کا وقت صرف وہی جانتا ہے۔ یہ خیال عام ہے کہ فلسطین کی آزادی قیامت کی نشانی ہے، جو ابو داود کی روایت کردہ حدیث پر مبنی ہے۔ لیکن علماء اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں، اس لیے اسے عقیدے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ قرآن اس بات پر زور دیتا ہے کہ قیامت اللہ کا راز ہے (سورۃ الاعراف: 187)۔ https://mozaik.inilah.com/dakwah/janji-kemerdekaan-palestina-dalam-alquran-dalil-sejarah-dan-kaitannya-dengan-akhir-zaman

+19

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

بنی اسرائیل واقعی وارث بنے، لیکن آخر انہوں نے نعمتوں کی ناشکری کی۔ تو اللہ نے ان پر عذاب ڈالا، یہ تو ہونا ہی تھا۔

-1
بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

شیخ احمد یاسین بھی پہلے اس وعدے پر یقین رکھتے تھے، پھر فلسطینی مجاہد شہید ہو کر گرے۔ اللہ اکبر!

0
بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

بہت اعلیٰ بھائی، یاد آگیا سورۃ الاسراء آیت اللہ کا وعدہ تو پکا ہے۔ لیکن ہمیں کوشش بھی کرنی ہے، بس ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھنا۔

0
بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

اگر حدیث کمزور ہے تو پھر بھی بہت سارے لوگ کیوں یقین کر لیتے ہیں؟ بھائیو، افواہوں میں آسانی سے مت آؤ۔

+1

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں