گناہوں کا دل پر اثر
بسم اللہ الرحمن الرحیم میرے بھائی، میری بہن… کیا تم نے حال ہی میں اپنے دل کو بھاری محسوس کیا ہے؟ نماز کیوں مشکل لگتی ہے؟ قرآن تمہیں پہلے کی طرح کیوں نہیں چھوتا؟ کبھی کبھی وجہ سادہ ہوتی ہے۔ یہ گناہوں کا اثر ہے۔ 1. گناہ دل کو سیاہ کر دیتے ہیں پیغمبر ﷺ نے فرمایا: "جب ایک بندہ گناہ کرتا ہے، تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ لگتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرتا ہے تو وہ صاف کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ اصرار کرتا ہے، تو یہ بڑھتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل کو ڈھانپ لیتا ہے۔" - ترمذی ہر گناہ ایک نشان چھوڑتا ہے… اور بہت زیادہ نشانات ایک نرم دل کو سخت بنا سکتے ہیں۔ 2. گناہ برکت کو کم کرتے ہیں اللہ فرماتے ہیں: "اگر وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے، تو ہم ان کے لیے آسمانوں اور زمین سے برکتیں کھول دیتے۔" (قرآن 7:96) جب گناہ آتے ہیں، تو برکت آپ کے وقت، آپ کے پیسے، اور آپ کی اطمینان سے چلی جاتی ہے۔ 3. گناہ سکون کو مشکلات سے بدل دیتے ہیں اللہ فرماتا ہے: "جو میری یاد سے منہ موڑتا ہے، اس کے لیے سختی کی زندگی ہے۔" (قرآن 20:124) آپ باہر سے مسکرا رہے ہو سکتے ہیں، لیکن اندر روح بے چین ہے۔ 4. گناہ علم اور ایمان کو کمزور کرتے ہیں امام شافعی (رحمت اللہ علیہ) نے کہا: "علم ایک روشنی ہے، اور اللہ کی روشنی گنہگار کو نہیں دی جاتی۔" اسی لیے قرآن دور لگتا ہے، دعائیں کمزور لگتی ہیں، اور ایمان خالی محسوس ہوتا ہے۔ 5. گناہ آپ کو مزید دور لے جاتے ہیں ایک گناہ دوسرے کے لیے دروازہ کھول سکتا ہے۔ ایک چھوٹا سا پھسلنا عادت بن جاتا ہے، ایک عادت طرزِ زندگی، اور آہستہ آہستہ دل بغیر محسوس کیے دور جا رہا ہے۔ لیکن چاہے آپ کے گناہ سمندر کی طرح گہرے کیوں نہ ہوں - اللہ کی رحمت بڑی ہے۔ وہ فرماتا ہے: "اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ اللہ تمام گناہوں کو معاف کرتا ہے۔" (قرآن 39:53) آپ کا ماضی آپ کا مستقبل طے نہیں کرتا۔ آپ کی آج کی توبہ سب کچھ بدل سکتی ہے۔ تو اللہ کی طرف لوٹ آؤ۔ آج رات دو رکعت نماز پڑھو۔ سجدے میں رونا۔ اللہ سے اپنے دل کو صاف کرنے، گناہوں کے داغ دھونے، اور اپنی زندگی کو دوبارہ روشنی سے بھرنے کی دعا مانگو۔ اللہ ہمارے دلوں کو نرم کرے، ہمارے گناہوں کو معاف کرے، اور ہمیں اپنی طرف واپس رہنمائی کرے۔ آمین 🤍