اشتراک کردہ مضمون: اسرائیل کا سزائے موت کا قانون
کئی عرب اور اسلامی ممالک نے حال ہی میں ایک مشترکہ بیان جاری کر کے اسرائیل کے اس نئے قانون کی سخت مذمت کی ہے جس کے تحت فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلائے جانے والے فلسطینیوں کو قاتلانہ حملوں کے الزام میں سزائے موت دیا جا سکتی ہے۔ انہوں نے اسے خطرناک تصاعد کا باعث قرار دیا ہے جو 'نسل پرستی کے نظام' کو مضبوط کرتا ہے اور خبردار کیا کہ اس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے۔
بیان میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جس میں تشدد، بھوک اور بنیادی حقوق سے محرومی کی اطلاعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ صرف فلسطینیوں کا ہی ان عدالتوں میں مقدمہ چلایا جاتا ہے، جن میں سزاؤں کی شرح 96 فیصد ہے اور اکثر ایسے اعترافی بیانات پر مبنی ہوتی ہے جو دباؤ میں حاصل کیے جاتے ہیں۔
اس قانون کے دو اہم حصے ہیں: ایک مغربی کنارے میں 'دہشت گردانہ کارروائیوں' کے لیے لاگو ہوتا ہے، اور دوسرا اسرائیل کے فلسطینی شہریوں یا مشرقی یروشلم میں رہنے والوں پر لاگو ہو سکتا ہے اگر وہ اسرائیل کے وجود کو 'ختم' کرنے کے مقصد سے قتل کریں۔ بل کو پہلے لازمی سزائے موت سے تبدیل کر کے بعض کیسوں میں عمر قید کی اجازت دی گئی ہے، لیکن حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے منصفانہ مقدمے کی شرائط اکثر پوری نہیں ہوتیں۔
یہ جاری جدوجہد اور امتیازی پالیسیوں کے خلاف بین الاقوامی مطالبے کی ایک بھرپور یاددہانی ہے۔
https://www.thenationalnews.co