9 برس کی عمر میں اپنی ماں اور 12 برس کی عمر میں اپنی بہن کو کھونا: جب بچپن کا غم واپس آتا ہے
میں، میری امّی اور میری بہن - ہم ہمیشہ ایک تِگڑی تھے۔ ہم جو کچھ کرتے، ایک ساتھ کرتے۔ جب میری امّی انتقال کر گئیں، تو مجھے سچ میں مناسب طریقے سے سوگ منانے کا موقع ہی نہیں ملا۔ بس مجھے زندہ رہنا تھا۔ ایک دن میں اپنی امّی کا شہزادہ تھا، اُن سے لپٹا ہوا محفوظ محسوس کر رہا تھا؛ اگلے دن میں اپنے بزرگ دادا دادی کے ساتھ رہ رہا تھا اور مجھے جلدی بڑا ہونا پڑا۔ کچھ سہارا ملا، ہاں، مگر ایسا کبھی نہیں جس نے مجھے واقعی یہ سمجھنے دیا ہو کہ ہوا کیا تھا۔ سو میں نے زیادہ تر اسے اندر ہی رکھا۔ پھر، تین سال بعد، میری چھوٹی بہن بھی چل بسی۔ میں اب بھی بس ایک بچہ ہی تھا۔ اُس وقت، میری توجہ اپنے ابو پر تھی اور چیزیں سنبھالنے کی کوشش پر۔ پھر سے، میں نے اپنے کو کبھی سچ میں سوگ منانے کا موقع ہی نہیں دیا۔ حال ہی میں، میں نے اُن کی کچھ پرانی ویڈیوز دیکھیں جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ سالوں تک، مجھے اُن کے چہرے ذہن میں لانے یا اُن کی آوازیں صاف یاد رکھنے میں دِقت رہی۔ مگر اُن کلِپس کے دیکھنے کے بعد، سب کچھ آہستہ آہستہ واپس آ رہا ہے - اُن کی مسکراہٹیں، اُن کی آوازیں، اُن کے چلنے کا انداز۔ اس سال، پہلی بار، اُن کے انتقال کے سالگرہ کے دن میرے ذہن میں آپس میں جُڑے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں، اور اس کا اثر مختلف ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے دونوں نقصانات ایک ساتھ میرے سینے پر بیٹھے ہیں۔ میں کئی دن سے رو رہا ہوں۔ میں سن، خالی، بے چین اور واقعی اُداس محسوس کر رہا ہوں۔ میں سچ کہوں تو شاید زندگی میں کبھی اِتنے دُکھی نہیں ہوا تھا۔ یہ ایسے ہے جیسے تین روحیں اس دنیا سے چلی گئیں، لیکن میں اب بھی یہاں سانس لے رہا ہوں۔ میں ہر ایک دن اُن کے بارے میں سوچتا ہوں، مگر یہ احساس مختلف ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے بچپن میں دبایا ہوا غم، اب جب میں بڑا ہو گیا ہوں، پھر سے کھل گیا ہے۔ کیا کسی اور نے بھی ایسا محسوس کیا ہے کہ غم سالوں بعد اِس طرح پھر سے اُبھر آئے؟ جب یہ اِتنی شدت سے ٹکراتا ہے تو آپ دن بہ دن کیسے چلاتے ہیں؟ مجھے بس یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ میں اپنا دماغ تو نہیں کھو رہا۔