اسرائیل اور لبنان نے امریکی معاونت سے براہ راست مذاکرات کا آغاز کیا
اسرائیل اور لبنان نے امریکی معاونت سے براہ راست مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اقدام سرحد پر تناؤ کم کرنے کی کوششوں میں ایک سفارتی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، لبنان کی کمزور اقتصادی اور سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ اس مذاکرات میں دونوں فریقوں کی حیثیت غیر متوازن ہے۔
مذاکرات غیر مساوی حالات میں ہو رہے ہیں، جہاں اسرائیل کو ایک مضبوط فوجی طاقت اور عالمی بالادستی کی حمایت حاصل ہے، جبکہ لبنان سنگین معاشی بحران، حکومتی عدم استحکام اور غیر ملکی امداد پر انحصار کا شکار ہے۔ سرحدی سلامتی پر اثر انداز ہونے والے تمام اہم فریقوں کو شامل کیے بغیر، یہ معاہدہ کم مستحکم سیاسی مصنوعہ بننے کا خطرہ رکھتا ہے جو صرف غالب فریق کے مفادات کے تحت ہو گا۔
امریکہ کی ثالثی کا کردار بھی متنازعہ ہے کیونکہ وہ تاریخاً اسرائیل کا استحکامی اتحادی رہا ہے۔ اس طرح کے مذاکرات میں غیر ملکی فریق پر انحصار قومی خودمختاری کو مجروح کر سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کمزور پوزیشن سے وجود میں آنے والے امن معاہدے اکثر نئے نوآبادیاتی نظام کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، جیسا کہ اوسلو معاہدے اور کیپ ڈیوڈ معاہدے میں دیکھا گیا۔
https://www.harianaceh.co.id/2