شبِ قدر کے بارے میں صحیح احادیث
شبِ قدر رمضان کی سب سے عظیم رات ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن میں اس رات کے لیے ایک مکمل سورۃ نازل کی ہے-سورۃ القدر۔ اس رات کی عبادت کا ثواب ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی بڑھ کر ہے۔ بہت سی صحیح احادیث اس رات کی فضیلت، وقت، علامات اور عبادات کے بارے میں تفصیل بیان کرتی ہیں۔ یہاں کچھ اہم احادیث حوالوں کے ساتھ پیش ہیں۔ 1. شبِ قدر کی فضیلت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: > "جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر میں قیام (نماز) کرے، اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" حوالہ: صحیح بخاری – 1901 صحیح مسلم – 759 یہ حدیث سکھاتی ہے کہ اس رات عبادت کا سب سے بڑا ثواب گناہوں کی مغفرت ہے۔ 2. رمضان کے آخری دس دنوں میں شبِ قدر کی تلاش حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: > "جب رمضان کے آخری دس دن شروع ہوتے تو رسول اللہ ﷺ اپنی عبادت میں اور زیادہ محنت کرتے، رات کو جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے۔" حوالہ: صحیح بخاری – 2024 صحیح مسلم – 1174 یہ نبی ﷺ کا ان راتوں میں عبادت پر خاص توجہ دکھاتا ہے۔ 3. آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں اس کی تلاش حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: > "رمضان کے آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں شبِ قدر تلاش کرو۔" حوالہ: صحیح بخاری – 2017 صحیح مسلم – 1169 اس لیے علماء 21ویں، 23ویں، 25ویں، 27ویں اور 29ویں راتوں پر خاص زور دیتے ہیں۔ 4. آخری سات راتوں کی اہمیت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: > "جو شخص شبِ قدر تلاش کرنا چاہے، اسے رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔" حوالہ: صحیح بخاری – 2015 صحیح مسلم – 1165 یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آخری دس میں سے، آخری سات راتیں اور بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ 5. مخصوص تاریخ کو چھپا دیا گیا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: > رسول اللہ ﷺ ہمیں شبِ قدر کے بارے میں بتانے کے لیے آئے، لیکن دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: "میں تمہیں یہ بتانے آیا تھا، لیکن ان کے جھگڑے کی وجہ سے وہ علم واپس لے لیا گیا۔ شاید یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ پس اسے 25ویں، 27ویں اور 29ویں راتوں میں تلاش کرو۔" حوالہ: صحیح بخاری – 2023 6. شبِ قدر کی خاص دعا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر مجھے پتہ چل جائے کہ کون سی رات شبِ قدر ہے، تو میں کیا کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي تلفظ: اَللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ معنی: اے اللہ، تو بڑا معاف کرنے والا ہے، تو معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔ حوالہ: جامع ترمذی – 3513 سنن ابن ماجہ – 3850 (یہ حدیث صحیح ہے) 7. شبِ قدر کی ایک علامت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: > "شبِ قدر کے بعد صبح کو سورج بغیر تیز شعاعوں کے طلوع ہوتا ہے۔" حوالہ: صحیح مسلم – 762 8. ایک پرسکون اور معتدل رات عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: > "شبِ قدر پرسکون اور معتدل ہوتی ہے، نہ زیادہ گرم اور نہ زیادہ سرد۔ اگلی صبح سورج نرم سرخی مائل روشنی کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔" حوالہ: صحیح ابن خزیمہ – 2190 مسند طیالسی – 349 9. اس رات فرشتوں کا نزول اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: > "اس رات فرشتے اور روح (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں۔" حوالہ: سورۃ القدر – آیت 4 علماء ذکر کرتے ہیں کہ اس رات بے شمار فرشتے زمین پر اترتے ہیں اور عبادت میں مشغول لوگوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ 10. نبی ﷺ کا اعتکاف کا معمول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: > "رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے ان کی روح قبض فرما لی۔" حوالہ: صحیح بخاری – 2026 صحیح مسلم – 1172 یہ ان کے ان راتوں میں مسجد میں گوشہ نشینی اور شبِ قدر پانے کی امید میں مشغول رہنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ صحیح احادیث سے اہم نکات: شبِ قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں آتی ہے۔ اسے طاق راتوں میں تلاش کرنا بہتر ہے۔ اس رات کی عبادت پچھلے گناہوں کی مغفرت کا باعث بنتی ہے۔ نبی ﷺ نے اپنی عبادت بڑھا دی تھی اور اعتکاف کیا تھا۔ بہت سے علماء، خاص طور پر سلفی روایت سے، صرف 27ویں رات کو ہی محدود نہ کرنے بلکہ آخری دس دنوں کی تمام طاق راتوں-21ویں، 23ویں، 25ویں، 27ویں اور 29ویں-میں عبادت کرنے کی نصیحت کرتے ہیں۔