ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے موساد میں بھرتی ہونے کی اطلاع
ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد پر الزام ہے کہ انہیں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے تہران کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک خفیہ کوشش میں بھرتی کیا۔ امریکی اور ایرانی ذرائع کے حوالے سے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، احمدی نژاد نے 2024-2025 میں ماحولیاتی کانفرنسوں میں شرکت کے بہانے ہنگری کے کئی دورے کیے۔
ان دوروں کے دوران، مبینہ طور پر انہوں نے موساد کے سابق سربراہ ڈیوڈ برنیہ اور اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنٹوں سے خفیہ ملاقاتیں کیں۔ اسرائیل نے ان کے سفر اور رہائش کے اخراجات بھی اٹھائے۔ بتایا گیا ہے کہ احمدی نژاد نے مغرب میں زیادہ قبولیت حاصل کرنے کے لیے اپنا ظاہری حلیہ بدلا اور انگریزی سیکھی۔
فروری 2026 کے آخر میں معاملات اس وقت سنگین ہوگئے جب اسرائیلی فضائی حملے نے تہران میں ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا، اور موساد کے ایجنٹوں نے انہیں وہاں سے نکالا۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان کے تعلقات کے انکشاف کے بعد اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے انہیں نظربند کر رکھا ہے۔ احمدی نژاد کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے سیاسی نظام سے مایوس ہوگئے تھے اور دوبارہ اقتدار میں آنے پر ابراہم معاہدے کے ذریعے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
https://kabarbaik.co/mantan-pr